انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 460

انوار العلوم جلد ۱۸ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے گے۔مسلمانوں کی بے سروسامانی کی حالت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابو موسیٰ اشعری جو کچھ نومسلموں کو ساتھ لیکر شام سے آئے تھے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا يَا رَسُولَ الله ﷺ ہمیں آپ کوئی ایسی چیز دیں جس سے ہم میدانِ جنگ میں پہنچ سکیں۔بعض مفسرین اس کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سواری کے لئے اونٹ مانگے تھے مگر ابو موسیٰ اشعری جو مانگنے گئے تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ رسول کریم ﷺ کے پاس اونٹ مانگنے گئے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں ہم نے رسول کریم ﷺ سے یہ عرض کیا تھا کہ ہمارے پاس سواریاں تو ہیں نہیں اس لئے لشکر کے ساتھ چلنے کے لئے آپ ہمیں چپلیاں دے دیں تا کہ سنگلاخ زمین پر ہم بھاگ سکیں۔ہم نے سواریاں نہیں بلکہ چپلیاں مانگی تھیں لیکن اُس صلى الله علوم وقت اسلام پر اسقدر غربت کے دن تھے کہ رسول کریم ہے ان کو چپلیاں بھی نہ دے سکے نا قرآن کریم نے ان کی اس حالت کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے کہ جب وہ رسول کریم ﷺ کے پاس سے نکلے تو اُن کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے نال تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثال ابو موسیٰ اشعری کی طرح ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی ایک آدمی مدد کے لئے مانگ لیا اور ابو موسیٰ اشعری نے اپنے ساتھیوں کے لئے چپلیاں مانگ لیں مگر رسول کریم ﷺ کو جب اللہ تعالیٰ نے مقر ر کیا تو آپ نے کوئی ساتھی نہیں مانگا تھا اور جب خدا تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ جاؤ اور مخالفت دین کی آگ میں کو دجاؤ آپ کو د گئے۔پس حقیقی محمدیت یہی ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور جب بھی اسے کوئی بوجھ دین کے لئے اُٹھانا پڑے اُسے اکیلا ہی اُٹھانے کے لئے تیار ہو جائے اور اس کے لئے کسی کی مدد کا خواہاں نہ ہو۔اور یہ بھی خیال نہ کرے کہ فلاں کیا کر رہا ہے اور میں کیا کر رہا ہوں۔جو شخص یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ یہ کام میں نے ہی کرنا ہے وہ ایمان دار کہلانے کا مستحق ہوتا ہے اور جو شخص یہ فیصلہ نہیں کرتا وہ سمجھ لے کہ ابھی اس کے اندر ایمان پیدا ہی نہیں ہوا اُسے چاہئے کہ اپنے ایمان کی فکر کرے۔اگر ہماری جماعت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ہم میں سے ہر شخص چھونا محمد تے بننے کی کوشش کرے تب جا کر ہم کسی کامیابی کا منہ دیکھ سکیں گے۔یا درکھو ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم بننا چاہئے موسیٰ علیہ السلام نہیں بننا چاہئے کیونکہ ہمیں موسیٰ علیہ السلام کی نقل سے کیا کام ہمیں تو صلى الله