انوارالعلوم (جلد 18) — Page 459
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۵۹ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے الله ایک اپنے اپنے دین کا اکیلا ذمہ دار ہے امیر اور سیکرٹری وغیرہ تو دنیا کے انتظام کے ماتحت ہیں قرآن کریم کا انتظام تو یہی ہے کہ تم خود ہی مربی ہو ، تم خود ہی معلم ہو، تم خود ہی قاضی ہو، تم خود ہی تعلیم دینے والے ہو تم خود ہی نماز پڑھانے والے ہو اور تم خود ہی فردا فردا دین کے ہر قسم کے کاموں کے ذمہ دار ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثال تمہارے سامنے موجود ہے انہوں نے کمزوری دکھائی اور اللہ تعالیٰ سے مدد کے طور پر ایک آدمی مانگ لیا۔قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے یہ دعا آتی ہے کہ واجْعَل تي وزيرا من اخلي ؟ اے اللہ تعالیٰ ! میں اکیلا اس ذمہ داری کو نہیں نبھا سکتا مجھے میرے ہی اہل میں سے ایک وزیر عطا فرما۔موسیٰ علیہ السلام نے تو کمزوری دکھائی اور اپنی مدد کے لئے ایک آدمی مانگ لیا مگر محمد رسول اللہ ﷺ نے تو ایک بھی نہ مانگا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو کہا تھا مجھے ایک وزیر چاہئے مگر محمد رسول اللہ ﷺ نے کہا میں خدا تعالیٰ کے رستہ میں جان دے دوں گا مگر قدم پیچھے نہ ہٹاؤں گا۔میری جان بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہونے کے لئے ہر وقت حاضر ہے۔جنگ تبوک کے لئے جب رسول کریم ﷺ باہر نکلے رومی قوم سے جنگ تھی رومی بہت طاقتور قوم تھی اور وہ بہت بڑے لشکر کے ساتھ اور اس وقت کے جنگ کے ہر قسم کے ساز و سامان سے آراستہ و پیراستہ ہو کر مکمل تیاری کر کے آئے تھے۔صحابہ ڈرتے تھے کہ کہیں رسول کریم ہے کو دشمن کے ہاتھوں سے کوئی آنچ نہ آجائے کیونکہ پچاس پچاس اور ساٹھ ساٹھ رومیوں کے مقابلہ میں صرف ایک ایک مسلمان تھا اور پھر رومی لشکر اُس زمانے کے لحاظ سے پورے طور پر مسلح تھا اُس کے پاس تیر بھی تھے ، نیزے بھی تھے اور پتھر برسانے والی منجنیقیں اور دوسرے گولہ باری کے بھی سامان تھے ، ادھر مسلمانوں کے پاس تیر، نیزے اور تلوار میں بھی پوری نہ تھیں، پھر مسلمانوں کی تعداد بھی نہایت قلیل تھی مگر با وجود اس بے سروسامانی کے اور ا قلیل التعداد ہونے کے صحابہ دشمن سے بالکل مرعوب نہ تھے اور وہ اپنی زندگی کا واحد مقصد ایک ہی سمجھتے تھے وہ یہ کہ وہ رسول کریم ﷺ کے دائیں اور بائیں ، آگے اور پیچھے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کو قربان کر دیں گے مگر رسول کریم ﷺ کو ہرگز دشمن کی طرف سے کوئی آنچ نہ آنے دیں صلى الله