انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 333

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۳۳ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں کر۔اگر کھلے طور پر کھڑے ہوتے تو اس سے بھی کم آتے۔بچپن میں میں صفیں اور ان صفوں میں کھڑے ہونے والے آدمیوں کو گنا کرتا تھا اور میں نے دیکھا ہے کہ بہت شاذ ایسا ہوتا کہ کسی صف میں سات آدمی ہوتے ورنہ بعض دفعہ چھ اور بعض دفعہ پانچ آدمی ہی ایک صف میں کھڑے ہوتے تھے۔اب بھی وہ جگہ موجود ہے اور پرانی مسجد کے نشانات باقی ہیں اس میں کھڑے ہو کر دیکھ لو۔بچے اگر کھڑے ہو جائیں تو ایک صف میں سات بچے آ سکتے ہیں اور اگر بڑے کھڑے ہوں تو چھ سے زیادہ کھڑے نہیں ہو سکتے اور وہ بھی پھنس کر کھڑے ہونگے۔یہ مسجد ہوا کرتی تھی مگر اسی کو دیکھ دیکھ کر لوگوں کے ایمان تازہ ہو جاتے تھے۔وہ یہاں آتے ، بیٹھتے اور ذکر الہی کرتے اور جب مسجد سے باہر نکلتے تو باغ میں چلے جاتے اور ایک دوسرے سے کہتے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد صاحب کا باغ ہے۔اُس زمانہ میں مقبرہ بہشتی نہیں ہوتا تھا اب تو لوگ مقبرہ بہشتی میں دعا کے لئے جاتے اور اپنے ایمان تازہ کرتے ہیں مگر اُن کا ایمان صرف باغ کو دیکھ کر ہی تازہ ہو جاتا تھا اور انہیں خدا تعالیٰ کی قدرت کا وہ نظارہ نظر آنے لگتا تھا جو آجکل کے لوگوں کو بڑے بڑے نشانات دیکھ کر بھی نہیں آتا۔وہ ۳۶ آدمیوں کی مسجد کو دیکھ کر کہتے کہ ہمارے خدا میں کتنی بڑی طاقت ہے۔کجا یہ حالت تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا اور کجا یہ حالت ہے کہ ۳۶ آدمی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔اسی طرح وہ مسجد اقصیٰ کو دیکھتے تو ان کے ایمان اور زیادہ تازہ ہو جاتے اور کہتے اللهُ اَكْبَرُ ہماری ایک جامع مسجد بھی ہے۔اُن کو یہی بڑا نشان نظر آتا تھا کہ ہماری پانچ وقتہ نماز کیلئے الگ مسجد ہے اور جمعہ پڑھنے کے لئے الگ مسجد ہے۔یہ دوست جن کا میں ذکر کر رہا ہوں جب یہاں آئے تو تین یا تین سے زیادہ تھے ان میں سے ایک بھائی جلدی جلدی آگے چلا جا رہا تھا اور تین چار پیچھے تھے یا ایک آگے تھا اور دو تین پیچھے تھے۔ہمارے ایک ماموں تھے مرزا علی شیر صاحب جو مرزا سلطان احمد صاحب کے خسر تھے جہاں اب دار الضعفاء ہے وہاں ان کی زمین ہوتی تھی اس زمین میں انہوں نے باغ لگایا اور ترکاریاں وغیرہ بو دیں۔یہی ان کا شغل تھا کہ وہ ہر وقت وہاں بیٹھے رہتے۔باغ کی نگرانی رکھتے اور ترکاریوں وغیرہ کو دیکھتے رہتے۔ساتھ ساتھ ایک لمبی تسبیح جو ان کے ہاتھ میں ہوتی تھی اس پر ذکر بھی کرتے چلے جاتے