انوارالعلوم (جلد 18) — Page 332
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۳۲ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں چنانچہ آدم اور شیطان والا قصہ ہمیشہ دُہرایا جاتا ہے۔آخر ہر شخص آدم کی اولاد میں سے ہے پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اسے آدم کا ناک تو ملے ، آنکھ تو ملے ، کان تو ملے ، دھڑ تو ملے غرض سب چیزیں اسے آدم کی ملیں مگر آدم کا شیطان اسے نہ ملے یا آدم کے فرشتے اسے نہ ملیں۔جب اسے آدم کی ہر چیز ملی ہے تو ضروری تھا کہ اسے آدم کا فرشتہ اور آدم کا شیطان بھی ملتا۔چنانچہ دنیا میں ہزاروں لوگوں کو کچھ نیک صلاح دینے والے مل جاتے ہیں، کچھ بد صلاح دینے والے مل جاتے ہیں۔جو آدم کے نقش قدم پر چلنے والا ہوتا ہے۔فَنَسِي وَلَمْ نَجِدُ لَهُ عَزما لے کے مطابق اگر کبھی غلطی سے اس کی بات مان بھی لے تو بعد میں ہوشیار ہو جاتا ہے اور اس کے اصل تعلقات فرشتے سے ہی رہتے ہیں لیکن جس کے اندر آ دمیت کم ہوتی ہے قدرتی طور پر وہ شیطان کی طرف جھک جاتا ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس میں کچھ حصہ مؤمنوں کی کمزوری کا بھی ہوتا ہے۔مؤمن بھی ایسی باتیں سن کر جرات نہیں کرتے کہ دوسرے کو سمجھائیں ورنہ اگر ذرا بھی جرات سے کام لیں تو دوسرے کو کبھی ورغلانے کی جرأت نہ ہو۔میں نے پہلے بھی قصہ سنایا ہے کہ ضلع گجرات کے پانچ بھائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یہاں آیا کرتے تھے ، مدت تک رہتے اور محبت سے سلسلہ کی باتیں سنتے۔قادیان کے مقدس مقامات کی وسعت شان اور عظمت جس کو اب لوگ دیکھتے اور اس طرح آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہیں کہ ان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم کسی نشان کے پاس سے گزر رہے ہیں اُس زمانہ میں نہیں تھی مگر پھر بھی آنے والے چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنے ایمانوں کو تازہ کر لیا کرتے تھے۔اب تو منارة امسیح ہے، مسجد اقصیٰ ہے، بہشتی مقبرہ ہے اور قدم قدم پر انسان کے ایمان کو تازہ کرنے والے نشانات موجود ہیں مگر اُس زمانہ میں صرف ایک چھوٹی سی مسجد تھی جس میں نماز پڑھی جاتی تھی۔اب بھی یہ مسجد چھوٹی ہی کہلاتی ہے حالانکہ بہت سے قصبوں کی جامع مسجدوں کے برابر ہے مگر پہلے واقعہ میں چھوٹی ہوا کرتی تھی اور فی صف صرف چھ آدمی پھنس پھنس کر آتے تھے۔اگر پہلے آدمی ہوتے یا ان میں کوئی بچہ بھی شامل ہوتا تو سات بھی آجاتے۔اس مسجد میں چھ صفیں ہوا کرتی تھیں اور وہ بھی ایسی حالت میں جب کہ نمازی جوتیوں تک چلے جائیں اور مسجد پوری بھری ہوئی ہو گویا مسجد میں صرف ۳۶ آ دمی آ سکتے تھے اور وہ بھی پھنس پھنس