انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 334

۳۳۴ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں انوارالعلوم جلد ۱۸ تھے۔وہ پیری مریدی کیا کرتے تھے مگر بالکل ابو جہل کے نقش قدم پر تھے جس طرح ابو جہل کو جب کوئی ایسا آدمی ملتا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سن کر مکہ میں آیا ہوتا تو وہ اس سے ملتا اور کہتا کہ یہ تو محض دکانداری ہے اگر اس کے اندر کچھ بھی صداقت ہوتی تو میں نہ مانتا میں تو اس کا رشتہ دار ہوں۔اسی طرح مرزا علی شیر صاحب کو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں میں سے کوئی مل جاتا تو وہ اسے ورغلانے کی کوشش کرتے اور کہتے تم کہاں پھنس گئے ہو میں انہیں خوب جانتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ یہ محض مکر اور فریب سے ایک دکان نکال لی گئی ہے ورنہ سچائی کہاں ہے اگر سچائی ہوتی تو میں قبول نہ کرتا۔میں تو ان کا رشتہ دار ہوں۔وہ سارے بھائی مل کر چونکہ باغ کی طرف جا رہے تھے اور ایک ان میں سے آگے آگے تھا اس لئے مرزا علی شیر صاحب نے جب اُس کو دیکھا تو آواز دی کہ بھائی صاحب ! ذرا ادھر تشریف لائیے۔وہ آئے تو اس کو بٹھا کر انہوں نے تقریر شروع کر دی اور کہا کہ کیا آپ مرزا صاحب سے ملنے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔مرزا علی شیر صاحب کہنے لگے دیکھئے ! میں محض آپ کی بھلائی اور فائدہ کے لئے کہتا ہوں کہ آپ اس خیال کو جانے دیں ہم آپ کے دلی خیر خواہ ہیں ہم آپ کو سچ سچ بتاتے ہیں کہ اس شخص نے محض ایک دکان نکال لی ہے اور آپ کا فائدہ اس میں ہے کہ اس کو چھوڑ دیں۔جب وہ الفاظ کو خوب سجا سجا کر تقریر کر چکے تو انہوں نے بڑے جوش سے مرزا علی شیر صاحب کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ۔مجھے تو آپ کے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا اچھا ہوا کہ آپ کی ملاقات نصیب ہو گئی۔مرزا علی شیر صاحب دل میں بڑے خوش ہوئے کہ آج خوب شکار ہاتھ آیا۔وہ اسی طرح ان کے ہاتھ کو پکڑ کر بیٹھے رہے پھر انہوں نے زور سے اپنے بھائیوں کو آوازیں دینی شروع کیں کہ جلدی آنا ، جلدی آنا ، ایک نہایت ضروری کام ہے۔وہ بھاگے بھاگے آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے بھائی نے مرزا علی شیر صاحب کا ہاتھ پکڑا ہوا ہے اور مرزا علی شیر صاحب کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا ہے کہ آج خدا نے کیسے اچھے لوگوں سے میری ملاقات کرائی ہے جب وہ قریب آئے تو انہوں نے پوچھا کہ بتائیں کیا کام تھا ؟ وہ کہنے لگے بات یہ ہے کہ ہم قرآن مجید میں روزانہ پڑھتے تھے اور اپنے مولویوں سے بھی سنتے تھے کہ دنیا میں ایک شیطان ہوا کرتا ہے مگر ہم نے اُسے کبھی دیکھا نہیں تھا