انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 293

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۹۳ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد چندہ میں حصہ لینا ، دفتر دوم کو مضبوط کرنا، وقف زندگی کی تحریک میں اپنے آپ کو پیش کرنا ، وقف تجارت میں اپنا نام لکھوانا، صنعت و حرفت کی ترقی کیلئے جو کارخانے جاری کئے جانیوالے ہیں ان میں حصہ لینا۔اگر ان تمام تحریکات میں جماعت پورے جوش کے ساتھ حصہ لے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کا ایک ایسا مکمل دائرہ تیار ہو جاتا ہے کہ جس کے بعد جماعت بغیر کسی تکلیف کے اپنے کاموں کو جاری رکھ سکتی ہے اور وہ لٹریچر بھی جو تبلیغی ضرورتوں کے لئے تیار کیا جا چکا ہے یا آئندہ تیار ہو آسانی سے مختلف ممالک میں پھیلایا جا سکتا ہے۔۔میرا یہ بھی ارادہ ہے کہ فضائل القرآن کے موضوع پر گزشتہ سالوں میں جلسہ سالانہ کے موقع پر جو تقاریر میں کرتا رہا ہوں ( یعنی ۱۹۲۸ء ، ۱۹۲۹ ء ۱۹۳۱،۶۱۹۳۰ء،۱۹۳۲ء ، اور ۱۹۳۶ء میں ) ان کو بھی کتابی صورت میں شائع کر دیا جائے۔چونکہ انسانی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا میں دوستوں کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص یہ سوچ سمجھ کر میری لکھی ہوئی تفسیر کو پڑھے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ قرآن کریم کی تفسیر مکمل نہیں ہوئی۔اصل بات یہ ہے کہ میرا ترجمہ اور میری تفسیر ہمیشہ ترتیب آیات اور ترتیب سور کے ماتحت ہوتی ہے اور یہ لازمی بات ہے کہ جو شخص اس نکتہ کو مد نظر رکھے گا وہ فوراً یہ نتیجہ نکال لے گا کہ اس ترتیب کے ماتحت فلاں فلاں آیات کے کیا معنی ہیں۔فرض کرو ایک نکتہ یہاں ہے اور ایک وہاں اور درمیان میں جگہ خالی ہے تو ہوشیار آدمی دونوں کو دیکھ کر خود بخود درمیانی خلاء کو پُر کر سکے گا اور وہ سمجھ جائے گا کہ جب یہ نکتہ فلاں بات کی طرف توجہ دلاتا ہے اور وہ نکتہ فلاں بات کی طرف تو درمیان میں جو کچھ ہو گا وہ بہر حال وہی ہو گا جو ان دونوں نکتوں کے مطابق ہو۔اگر درمیانی مضمون کسی اور طرف چلا جائے تو دائیں بائیں کے مضامین بھی لازماً ادھورے رہ جائیں گے اور سلسلہ مطالب کی کڑی ٹوٹ جائے گی۔پس میں چونکہ ہمیشہ ترتیب آیات اور ترتیب سور کو ملحوظ رکھ کر تفسیر کیا کرتا ہوں اس لئے اگر کوئی شخص میری ترتیب کو سمجھ لے تو گو میں نے کسی آیت کی کہیں تفسیر کی ہوگی اور کسی آیت کی کہیں درمیانی آیات کا حل کرنا اُس کے لئے بالکل آسان ہوگا کیونکہ ترتیب مضمون اسے کسی اور طرف جانے ہی نہیں دے گی اور وہ اس بات پر مجبور ہوگا کہ باقی آیتوں کے وہی معنی کرے جو اس ترتیب کے مطابق ہوں۔