انوارالعلوم (جلد 18) — Page 292
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۹۲ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد کہا پھر بھی کوئی بات تو ہوگی جو اور لوگوں کو چھوڑ کر میرے پاس آئے ہیں۔کہنے لگا صرف اتنی بات ہے کہ ہماری قوم جس جگہ بسی ہوئی ہے وہ زمین ایک ہندو ٹھا کر کی ہے جس دن ہم مسلمان ہوئے ہندو ٹھا کر نے ہمیں نوٹس دے دینا ہے کہ اپنا سامان اُٹھاؤ اور یہاں سے نکل جاؤ اگر آپ ہمارے لئے زمین کا انتظام کر دیں تو ہم مسلمان ہونے کے لئے بالکل تیار ہیں مکان وغیرہ ہم خود بنالیں گے ہمیں اس کے لئے کسی مدد کی ضرورت نہیں ہو گی۔میں نے کہا میں تو تم سے بھی زیادہ مجبور ہوں سات ہزار آدمیوں کو بسانے کے لئے میں کہاں سے زمین لاؤں۔اُس نے کہا یوں تو علماء بھی کہتے ہیں کہ ہم کلمہ پڑھانے کے لئے تیار ہیں مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ ان سات ہزار آدمیوں کا پھر بنے گا کیا اور جب یہ نکال دیئے جائیں گے تو ان کو مکانوں کے لئے زمین کہاں سے ملے گی۔اب دیکھو کس طرح سات ہزار آدمی مفت اسلام میں داخل ہو رہا تھا مگر ایک منٹ کے اندراندر ہاتھ سے نکل گیا۔اسی طرح اور بہت سے مقامات ہیں جہاں سات سات دس دس ہزار آدمی منٹوں میں اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں وہ بیزار ہیں اپنے مذاہب سے اور بیزار ہیں اپنے مذاہب کے علمبرداروں سے، نہ ان کے مذہب میں نور ہے نہ ہدایت ہے نہ علم ہے نہ دین اور دنیوی ترقی کا کوئی سامان ہے اور نہ کوئی اور خوبی ہے۔اگر ان کی اصلاح اور ترقی کے لئے تجارت اور صنعت و حرفت کے میدان میں ہماری جماعت مضبوط ہو جائے اور مختلف مقامات پر کارخانے کھل جائیں تو ان کے کام کے لئے بھی بہت کچھ گنجائش نکل سکتی ہے۔کانگرس نے دیہات سدھار کے نام سے جو سکیم جاری کی تھی اس کی غرض بھی درحقیقت ہندو مذہب کی مضبوطی تھی کیونکہ اس ذریعہ سے جب مزدور طبقہ کو کام مل جاتا ہے تو ہندو مذہب پر وہ اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاتے ہیں۔بہر حال اگر مختلف مقامات پر کارخانے جاری ہو جائیں اور جماعتیں ان میں حصہ لیں تو یہ تبلیغ اسلام کا ایک ایسا کامیاب ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے کہ اس کے ذریعہ ہزاروں ہزار مزدوروں کے لئے کام کرنے کا موقع پیدا ہو جائے گا۔اس کے بعد جب ہم ان کو اسلام کی دعوت دیں گے تو ان کے لئے اسلام قبول کرنا موجودہ حالات کی نسبت زیادہ آسان ہوگا۔یہ وہ اہم اور ضروری تحریکات ہیں جو جماعت کو ہمیشہ اپنے مد نظر رکھنی چاہئیں یعنی تعلیم القرآن کو عام کرنا ، دنیوی تعلیم کے حصول میں ترقی کرنا تحر یک جدید کے