انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 294

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۹۴ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد ایک لطیفہ یاد آ گیا جب میں سورہ کہف کی تفسیر لکھنے بیٹھا تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس آیت کے کیا معنی ہیں کہ وَلَا تَقُولَنَّ الشّاي اللّي فَاعِلُ ذلِكَ غَدًا إِلا أَن يَشَاء الله 19 اور اس کا پہلی آیات سے جوڑ کیا ہے؟ میں دو تین گھنٹے سوچتا رہا مگر یہ آیت حل نہ ہوئی آخر میں گھبرا گیا اور میں نے کہا اچھا اگر اس وقت مجھے اس آیت کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو نہ سہی جب میں تفسیر لکھتے لکھتے یہاں پہنچوں گا تو دیکھا جائے گا جب میں سورہ کہف کی تفسیر لکھتے لکھتے اس آیت سے پہلی آیت پر پہنچا تو اگلی آیت آپ ہی آپ حل ہوگئی اور میں نے سمجھ لیا کہ اس کے کیا معنی ہیں کیونکہ ان معنوں کے سوا کوئی اور معنی ترتیب آیات کے لحاظ سے بن ہی نہیں سکتے تھے۔اُن دنوں مولوی شیر علی صاحب ولایت میں تھے لطیفہ یہ ہوا کہ جب مولوی شیر علی صاحب انگریزی ترجمہ القرآن کے نوٹ میرے پاس لائے تو میرے دل میں خیال گزرا کہ چلو یہی دیکھ لو کہ لا تقولن الشاي انّي فَاعِلُ ذلِكَ غَدًا إِلا أَن يَشَاء الله کے انہوں نے کیا معنی کئے ہیں۔جب میں نے دیکھا تو وہی معنی لکھے تھے جو میں نے کئے تھے میں نے کہا مولوی شیر علی صاحب نے تو کمال کر دیا کہ جو آیت میرے لئے معمہ بنی رہی تھی اسے اُنہوں نے لندن میں ہی حل کر لیا۔اس پر ملک غلام فرید صاحب کہنے لگے کہ یہ مولوی شیر علی صاحب کے معنی نہیں بلکہ آپ کے ہی معنی ہیں آپ نے اگست ۱۹۲۸ء میں جو قرآن کریم کا درس دیا تھا اس میں آپ نے اس آیت کے یہی معنی کئے تھے اور مولوی صاحب نے اسی درس کے نوٹوں سے یہ معنی لئے تھے۔معلوم ہوتا ہے اُس وقت بھی چونکہ میں ترتیب کے ماتحت تفسیر کر رہا تھا اس لئے یہ آیت خود بخود حل ہو گئی اور بعد میں مجھے یاد بھی نہ رہا کہ میں نے اس کے کیا معنی کئے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب میں بغیر ترتیب کے اس پر غور کرنے بیٹھا تو مجھے اس کے کوئی معنی سمجھ میں نہ آئے لیکن ترتیب میں آ کر حل ہو گئے۔پس میری تفسیر کے متعلق یہ اصولی گر یا درکھنا چاہئے کہ میری تفسیر ہمیشہ ترتیب آیات کے ماتحت چلتی ہے اور جب کوئی تفسیر ترتیب کے ماتحت چل رہی ہو تو ایسی حالت میں اگر کسی کو دو الگ الگ سکتے مل جائیں گے تو خواہ درمیان میں فاصلہ ہو وہ آسانی سے درمیانی آیات کی تفسیر کو نکال سکتا ہے کیونکہ وہ سمجھ جائیگا کہ صحیح تفسیر ہی ہوگی جو ان دو نکتوں کے مطابق ہو۔جس طرح