انوارالعلوم (جلد 18) — Page 281
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۸۱ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد ان کے خیالات میں بلندی ہوتی ہے اور نئی نئی باتیں سننے اور پھر اُن باتوں کے سیکھنے کا انہیں بے حد شوق ہوتا ہے۔خود حضرت مسیح موعود پر بھی ابتداء میں زیادہ تر طالب علم ایمان لائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ابتداء میں زیادہ تر وہی لوگ ایمان لائے جو نو جوان تھے۔بڑی عمر والے حضرت ابو بکر ہی تھے مگر حضرت ابو بکر جب سوا دو سال کی خلافت کے بعد فوت ہوئے تب وہ اُس تریسٹھ سال کی عمر تک پہنچے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی گویا وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں اڑھائی سال کے قریب چھوٹے تھے۔پھر حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے اور انہوں نے ساڑھے دس سال خلافت کرنے کے بعد ۶۳ سال کی عمر میں انتقال کیا۔حضرت ابو بکر کے خلافت کے سوا دو سال اور حضرت عمر کی خلافت کے ساڑھے دس سال جمع ہو جائیں تو یہ تیرہ سال کا عرصہ بنتا ہے اور چونکہ وہ نبوت کے چھٹے سال ایمان لائے تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیس سالہ عہد نبوت میں سے چھ سال نکال دیئے جائیں تو سترہ سال رہ جاتے ہیں۔سترہ سال یہ اور تیرہ سال وہ گویا تمیں سال انہوں نے اسلام کی خدمات سرانجام دیں اور چونکہ ان کی وفات تریسٹھ سال میں ہوئی ہے اس لئے معلوم ہوا کہ اسلام لانے کے وقت ان کی عمر ۳۳ سال تھی۔اسی طرح حضرت طلحہ اور زبیرشترہ سترہ سال کے تھے جب ایمان لائے اور حضرت علمی گیارہ سال کے تھے جب انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا نصیب ہوا گویا اسلام کی جڑ اور ستون سب ایسے لوگ ہی ثابت ہوئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے وقت نوجوان تھے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ امنگوں کا زمانہ ہوتا ہے اور انسانی خیالات کی پرواز بہت بلند ہوتی ہے اگر نو جوانوں کو کسی سچائی کا پتہ لگ جائے تو پھر وہ کسی مصیبت اور تکلیف کی پرواہ نہیں کرتے وہ کہتے ہیں ہم مر جائیں گے مگر سچائی کو قبول کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔پس نوجوان طبقہ تک ہمارا اپنی آواز کو پہنچانا نہایت ضروری ہے جس کا طریق یہی ہے کہ ایک مبلغ ایسا ہو جس کا یونیورسٹیوں سے تعلق ہو اور وہ نوجوان طبقہ کو احمدیت کی طرف متوجہ کرتا رہے۔پانچواں مبلغ ایسا ہو گا جس کا تجارت سے تعلق ہوگا اور اُس کا فرض ہوگا کہ وہ سلسلہ کے تبلیغی اخراجات کو زیادہ سے زیادہ تجارت کی آمد سے پورا کرنے کی کوشش کرے۔یہ کام اپنی ذات