انوارالعلوم (جلد 18) — Page 280
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۸۰ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد خصوصیات وغیرہ سے آگاہ کرتا رہے۔مثلاً جو لوگ عربی یا فارسی جاننے والے ہوں یا اسلامی اصول سے دلچپسی رکھتے ہوں یا مثلاً پادری وغیرہ جو مذہبی آدمی سمجھے جاتے ہیں ایسے تمام لوگوں سے اس کے تعلقات ہوں۔اسی طرح علمی اداروں میں اس کی آمد ورفت ہو اور وہ ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ سے اچھے تعلقات رکھنے والا ہوتا کہ علمی حلقہ میں احمدیت کو مقبولیت حاصل ہو اور لوگوں کے دلوں میں جو وساوس پائے جاتے ہیں اُن کا ازالہ ہو۔تیسرا مبلغ ایسا ہو گا جس کا کام یہ ہوگا کہ بڑے بڑے اور بااثر لوگوں سے اپنے تعلقات رکھے اور ملک کے اندر جو ان کی پارٹیاں پائی جاتی ہوں ان کے خیالات کو درست رکھنے کی کوشش کرے۔یہ کام اپنی ذات میں نہایت اہم اور جماعت کی ترقی کے ساتھ بہت گہرا تعلق رکھنے والا ہے۔اس مبلغ کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ بڑے بڑے لوگوں سے اپنے تعلقات رکھے تا کہ مُلک کے ہر طبقہ میں اس کے دوست موجود ہوں اور جب بھی کوئی بات احمدیت کے خلاف ہو یا گورنمنٹ کسی غلط فہمی کی بناء پر کوئی ناجائز قدم اٹھانے لگے تو خود ملک کے سر بر آوردہ لوگ اس کے شبہات کا ازالہ کرنے کے لئے آگے بڑھیں اور وہ لوگوں کو بتا سکیں کہ احمدیت کیا چیز ہے اور وہ دنیا میں کیا تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے۔چوتھے آدمی کا یہ کام ہوگا کہ وہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں سے اپنے تعلقات بڑھائے۔درحقیقت یو نیورسٹیاں ملک میں خیالات پھیلانے کا گڑھ ہوتی ہیں اور وہی مبلغ کامیاب ہو سکتے ہیں جو اس نکتہ کو سمجھتے ہوئے یونیورسٹیوں سے اپنے تعلقات زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کریں۔ہر طالب علم جو کسی سکول یا کالج میں تعلیم پاتا ہے اُسے چونکہ نئے نئے علوم پڑھائے جاتے ہیں اور نئی سے نئی باتیں اُس کے کانوں میں پڑتی ہیں اس لئے اُس کے قلب میں ترقی کا غیر معمولی جذبہ ہوتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ پہلوں نے کیا ترقی کی ہے میں ایسے ایسے علوم پھیلا ؤں گا اور ایسی ایسی ایجادات کروں گا کہ دنیا محو حیرت ہو جائے گی۔ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ دنیا میں ایسے گزرے ہیں جو مرے تو ایسی حالت میں کہ ایک کلرک سے زیادہ ان کی حیثیت نہیں تھی مگر طالب علمی کے زمانہ میں وہ سمجھتے تھے کہ ہم بادشاہ نہ بنے تو وزیر بننا تو کوئی بات ہی نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ طلباء کے قلوب میں ایک غیر معمولی اُمنگ ہوتی ہے،