انوارالعلوم (جلد 18) — Page 261
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۶۱ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد عزت کو بھی قربان کر دیں گے۔کئی لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ کیا عزت اور آبرو کی قربانی بھی اسلام جائز قرار دیتا ہے؟ میں انہیں ہمیشہ یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ ہاں اسلام کے لئے اگر عزت اور آبرو کو بھی قربان کرنا پڑے تو مومن کو یہ چیز قربان کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ہزاروں اوقات انسانی زندگی میں ایسے آتے ہیں جب عزت اور آبر وخطرہ میں ہوتی ہے۔دشمن ننگ و ناموس کو کچلنے کے لئے تیار ہوتا ہے مگر خدا اور اُس کے رسول کی طرف سے انسان پر جو فرائض عائد ہوتے ہیں وہ اُسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ عزت و آبرو کا قربان ہونا برداشت کرلے مگر اپنے فرائض میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب میں ایک طرف جھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ اُٹھا اور دوسری طرف قبائل عرب میں ایسے باغی پیدا ہو گئے جنہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور شورش اس حد تک بڑھی کہ مدینہ پر حملہ کا خطرہ پیدا ہو گیا تو اُسوقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے ماتحت اُسامہ بن زید کی سرکردگی میں ایک لشکر شام کی طرف عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے روانہ ہو رہا تھا۔حالات کی نزاکت دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور اُن سے کہا کہ اس وقت باغیوں کی وجہ سے سخت خطرہ ہے اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں بہتر ہوگا کہ اسامہ کے لشکر کو روک لیا جائے اگر یہ لشکر بھی روانہ ہو گیا اور باغیوں نے مدینہ پر حملہ کر دیا تو ہماری عورتوں کی وہ بے حرمتی ہوگی کہ الامان حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا خدا کی قسم ! اگر دشمن ہم پر غالب آ جائے اور مدینہ کی گلیوں میں گتے ہماری عورتوں کی ٹانگیں گھسیٹتے پھر میں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ ہونے کا ارشاد فرمایا ہے لشکر جائے گا اور ضرور جائے گا ہے اب دیکھو یہ اسلام کے لئے عزت اور آبرو کی قربانی تھی جسے پیش کرنے کے لئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فوراً تیار ہو گئے۔ہمیں پچیس ہزار کا لشکر مدینہ کی طرف بڑھتا چلا آ رہا تھا اور صرف چند سو آدمی مدینہ میں موجود تھے جو اُن کے مقابلہ کے لئے قطعاً کافی نہیں تھے۔دس ہزار تجربہ کارسپاہیوں کا لشکر دشمن کو شکست دینے کیلئے موجود تھا مگر چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے شام کی طرف روانہ ہونے کا ارشاد فرما چکے تھے اس لئے حضرت ابو بکر نے کہا کہ با وجود