انوارالعلوم (جلد 18) — Page 260
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۶۰ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد ہیں ہیں لا کھ مبلغ تجویز کیا ہے۔دنیا کے نزدیک میرے یہ خیالات ایک واہمہ سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھتے مگر اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جو چیز ایک دفعہ پیدا ہو جائے وہ مرتی نہیں جب تک اپنے مقصد کو پورا نہ کرے۔لوگ مجھے بے شک شیخ چلی کہہ لیں مگر میں جانتا ہوں کہ میرے ان خیالات کا خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ فضا میں ریکارڈ ہوتا چلا جا رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ میرے ان خیالات کو عملی رنگ میں پورا کرنا شروع کر دے گا۔آج نہیں تو آج سے ساٹھ یا سو سال کے بعد اگر خدا تعالیٰ کا کوئی بندہ ایسا ہوا جو میرے اِن ریکارڈوں کو پڑھ سکا اور اُسے توفیق ہوئی تو وہ ایک لاکھ مبلغ تیار کر دے گا ، پھر اللہ تعالیٰ کسی اور بندے کو کھڑا کر دے گا جو مبلغوں کو دولاکھ تک پہنچا دے گا ، پھر کوئی اور بندہ کھڑا ہو جائے گا جو میرے اس ریکارڈ کو دیکھ کر مبلغوں کو تین لاکھ تک پہنچا دے گا اس طرح قدم بقدم اللہ تعالیٰ وہ وقت بھی لے آئے گا جب ساری دنیا میں ہمارے ہیں لا کھ مبلغ کام کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے حضور ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے اس سے پہلے کسی چیز کے متعلق امید رکھنا بیوقوفی ہوتی ہے۔میرے یہ خیال بھی اب ریکارڈ میں محفوظ ہو چکے ہیں اور زمانہ سے مٹ نہیں سکتے آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں میرے یہ خیالات عملی شکل اختیار کرنے والے ہیں اور اگر ان خیالات کا اور کوئی فائدہ نہیں تو کم سے کم اتنا فائدہ تو سر دست ہو ہی جاتا ہے کہ میرے دن بھر کی کوفت دور ہو جاتی اور آرام سے نیند آ جاتی ہے اور اس میں جو مزہ مجھے حاصل ہوتا ہے اُس کا اندازہ کوئی اور شخص لگا ہی نہیں سکتا۔یہ کام ہے جو ہمارے سامنے ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ کام ہم نے ہی کرنا ہے کسی اور نے نہیں کرنا۔اور پھر ہمارے لئے یہ کوئی سوال نہیں کہ ہم نے یہ کام کتنی قربانی سے کرنا ہے۔بعض کام ایسے ہوتے ہیں جن کے کرتے وقت انسان یہ سوچ لیتا ہے کہ اس پر وہ کس حد تک روپیہ خرچ کر سکتا ہے۔اگر زیادہ روپیہ خرچ ہو تو وہ اس کام کے لئے تیار نہیں ہوتا مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ میں ایک ایسا گھوڑا خریدنا چاہتا ہوں کہ جس پر تین سو روپیہ خرچ آتا ہو تو اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ اگر ساڑھے تین سو روپیہ کو گھوڑا ملے گا تو میں نہیں لوں گا۔لیکن ہم تو یہ نہیں کہتے کہ اگر فلاں قربانی سے کام ہوا تو ہم کریں گے ورنہ نہیں کریں گے ہمارا یہ اقرار ہے کہ ہم اسلام کے لئے اپنی ہر چیز یہاں تک کہ اپنے مال ، جان اور