انوارالعلوم (جلد 18) — Page 262
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۶۲ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد شدید خطرات کے یہ لشکر نہیں رکے گا اسے ضرور بھیجا جائے گا خواہ مدینہ میں صرف بوڑھے، عورتیں اور بچے ہی رہ جائیں اور دشمن اس قدر غالب آجائے کہ عورتوں کی ٹانگیں مدینہ کی گلیوں میں کتے گھسیٹتے پھریں۔بھلا اس سے زیادہ عزت کی قربانی کیا ہوگی کہ شریف اور معزز عورتوں کی لاشیں مدینہ کی گلیوں میں روندی جائیں اور کتے اُن کی ٹانگیں گھسیٹتے پھریں۔پس یقینا سچے ایمان کے ساتھ ہر انسان کو اپنی جان ، اپنے مال ، اپنی عزت ، اپنی آبرو اور اپنے احساسات غرض ہر چیز کی قربانی کے لئے پوری طرح تیار رہنا چاہئے۔اگر ہم ان قربانیوں کے بغیر اپنی کامیابی کی امید رکھتے ہیں تو یہ امید بالکل غلط ہے۔قربانیاں ہی ہیں جو قوموں کو کامیاب کرتی ہیں اور قربانیاں ہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہوتی ہے جس دن ہماری جماعت قربانی کے انتہائی مقام پر پہنچ جائے گی اس دن وہ ایک پیارے بچے کی طرح خدا تعالی کی گود میں آجائے گی اور ہماری ہر مصیبت اور تکلیف دیکھتے دیکھتے غائب ہو جائے گی۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ بچہ کو بعض دفعہ ماں اپنے ہاتھ میں چھری لے کر ڈراتی ہے اور کہتی ہے آؤ میں تمہیں ذبح کر دوں۔جب بچہ اچھا کہ کر چار پائی پر لیٹ جاتا ہے تو ماں اپنے گلے سے اُسے چمٹا لیتی اور اتنے زور سے اسے چومتی ہے کہ اُس کے گلے سرخ ہو جاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے محبت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اُن کو قربانیوں کی بھڑکتی ہوئی آگ میں چھلانگ لگانے کا حکم دیتا ہے۔جب مؤمن قربانی کے ارادہ سے اس تنور میں اپنے آپ کو جھونک دیتے ہیں تو معا اللہ تعالیٰ کی محبت جوش میں آتی ہے اور وہ اس قدر پیار کرتا ہے کہ انہیں ہر مصیبت اور تکلیف بھول جاتی ہے۔جب تک ہماری جماعت کے افراد اپنے دلوں میں قربانی کا اسی قسم کا جذبہ پیدا نہیں کرتے اُس وقت تک وہ کسی قسم کی ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔پس میں جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں قربانی کے میدان میں اپنے قدم کو ڈھیلا نہیں بلکہ تیز تر کرتے چلے جانا چاہئے۔اسی طرح صدر انجمن احمد یہ کے چندے بھی نہایت اہم ہیں جن کی ادائیگی میں جماعت کو پوری توجہ کے ساتھ حصہ لینا چاہئے۔میں نے بتایا ہے کہ موجودہ حالت ایسی ہے کہ ہم اسلام کی جنگوں کو ایک لمحہ کے لئے بھی روک نہیں سکتے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس جنگ کو جاری رکھیں اور اس راہ میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ہم میں سے ہر فرد کو