انوارالعلوم (جلد 18) — Page 259
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۵۹ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد لایا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ کئی کمزور جو دوسرے موقع پر کمزوری دکھا جاتے عین موقع پر آ کر بہادر بن گئے اور انہوں نے دین کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔اسی طرح تحریک جدید میں اللہ تعالیٰ نے ایک تدبیر کی میں پہلے یہی سمجھتا رہا کہ یہ بوجھ شاید دس سال تک ہی رہے گا مگر آخر اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرما دیا کہ یہ قربانی جماعت کو ایک لمبے عرصہ تک کرنی پڑے گی۔پس جماعت کا فرض ہے کہ وہ سستی اور غفلت کو دُور کرے اور اللہ تعالیٰ نے اسے قربانیوں کا جو موقع عطا فرمایا ہے اس میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے۔یہ کام ایسا ہے جو لاکھوں روپیہ کا تقاضا کرتا ہے اور جب ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا میں پھیلائیں گے اور اسلام کے جلال اور اس کی شان کے اظہار کے لئے اپنی ہر چیز قربان کر دیں گے تو ہمیں ان تبلیغی سکیموں کے لئے جس قد ر روپیہ کی ضرورت ہو گی اُس کو پورا کرنا بھی ہماری جماعت کا ہی فرض ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا میں صحیح طور پر تبلیغ اسلام کرنے کے لئے ہمیں لاکھوں مبلغوں اور کروڑوں روپیہ کی ضرورت ہے۔جب میں رات کو اپنے بستر پر لیٹتا ہوں تو بسا اوقات سارے جہان میں تبلیغ کو وسیع کرنے کے لئے میں مختلف رنگوں میں اندازے لگاتا ہوں کبھی کہتا ہوں ہمیں اتنے مبلغ چاہئیں اور کبھی کہتا ہوں اتنے مبلغوں سے کام نہیں بن سکتا اس سے بھی زیادہ مبلغ چاہئیں یہاں تک کہ بعض دفعہ میں ہیں لاکھ تک مبلغین کی تعداد پہنچا کر میں سو جایا کرتا ہوں۔میرے اُس وقت کے خیالات کو اگر ریکارڈ کیا جائے تو شاید دنیا یہ خیال کرے کہ سب سے بڑا شیخ چلی میں ہوں مگر مجھے اپنے ان خیالات اور اندازوں میں اتنا مزہ آتا ہے کہ سارے دن کی کوفت دُور ہو جاتی ہے۔میں کبھی سوچتا ہوں کہ پانچ ہزار مبلغ کافی ہوں گے، پھر کہتا ہوں پانچ ہزار سے کیا بن سکتا ہے دس ہزار کی ضرورت ہے، پھر کہتا ہوں دس ہزار بھی کچھ چیز نہیں ، جاوا میں اتنے مبلغوں کی ضرورت ہے، سماٹرا میں اتنے مبلغوں کی ضرورت ہے، چین اور جاپان میں اتنے مبلغوں کی ضرورت ہے، پھر میں ہر ملک کی آبادی کا حساب لگاتا ہوں ، اُن کے اخراجات کا اندازہ لگاتا ہوں اور پھر کہتا ہوں یہ مبلغ بھی تھوڑے ہیں اس سے بھی زیادہ مبلغوں کی ضروت ہے۔یہاں تک کہ بیس ہیں لاکھ تک مبلغوں کی تعداد پہنچ جاتی ہے۔اپنے اِن مزے کی گھڑیوں میں میں نے