انوارالعلوم (جلد 18) — Page 258
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۵۸ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد آگے بڑھئے ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے کے یہ ایمان ہے جو ہمارے اندر ہونا چاہئے اور یہی ایمان ہے جو قوموں کو زندہ رکھتا ہے۔ہمیں دنیا کو بتا دینا چاہئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو بُری نگاہ سے دیکھنا آسان بات نہیں۔جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا کوئی شخص آگے نہیں بڑھے گا اُس وقت تک وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا نہیں کہہ سکے گا۔یہ ایمان ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ کا محبوب گا۔بناتا ہے اور یہی قربانی کی روح ہے جو مردوں کو زندہ کر دیا کرتی ہے۔پس جماعت کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ تحریک جدید کے مطالبات کے متعلق اس کے اندرستی اور غفلت کے جو آثار نظر صلى الله آ رہے ہیں ان کو دور کرے اور قربانیوں کے میدان میں اپنا قدم کبھی ڈھیلا نہ ہونے دے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ ایک خدائی تدبیر تھی کہ اس نے مجھے غفلت میں رکھا اور اصل حقیقت اس وقت منکشف ہوئی جب تحریک جدید کی دس سالہ میعاد ختم ہونے کو آئی تم کچھ کہہ لو میرے ساتھ تو یہ بات بالکل ویسی ہی ہوئی جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی جنگ سے پہلے صحابہ سے فرمایا کہ باہر نکلو شاید دشمن کے تجارتی قافلہ سے مقابلہ ہو جائے یا شاید کفار کے لشکر سے ہی مقابلہ ہو جائے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔دراصل بدر کی جنگ میں نہ مسلمان لڑنے کی نیت سے نکلے تھے نہ کفار ، کفار تو لشکر لے کر اس لئے نکلے تھے کہ مسلمانوں کے رعب کو مٹایا جائے اور مسلمان اس لئے نکلے تھے کہ کفار کا علاقہ پر اثر نہ پڑے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو اپنے ساتھ لے کر مدینہ سے باہر نکلے تو آپ کو الہام ہوا کہ دشمن کے لشکر سے ہی مقابلہ ہو گا مگر ابھی مسلمانوں کو آپ بتا ئیں نہیں۔چنانچہ جب وہ عین بدر کے موقع کے قریب پہنچ گئے تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ کفار کے لشکر سے مقابلہ ہو اب بتاؤ تمہارا کیا ارادہ ہے؟ صحابہ نے کہا یا رَسُول اللہ ! ارادہ کا کیا سوال ہے آپ حکم دیجئے ہم لڑنے کے لئے بالکل تیار ہیں سے اب دیکھو نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے علم تھا کہ کفار سے مقابلہ ہونے والا ہے اور نہ صحابہ کو اس بات کا علم تھا۔جب عین بدر کے مقام پر جا پہنچے تب اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آپ نے صحابہ کو بتایا کہ خدا تعالیٰ انہیں مدینہ سے کس غرض کے لئے