انوارالعلوم (جلد 18) — Page 176
انوار العلوم جلد ۱۸ نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں جگہ جمع کر دے گا تا کہ جدائی ان کو تکلیف نہ دے لیکن ان میں مدارج کا امتیاز بھی باقی رہے گا اور وہ اس طرح کہ ہر ایک ان میں سے اپنے اپنے ذوق اور اپنی اپنی جس کے مطابق جنت کی نعمتوں سے لطف اُٹھائے گا۔پس یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جس جس جس کو انسان دنیا میں تقویت دے گا اُسی کے مطابق جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوگا اور انسان کی حسیں اس دنیا میں اس طرح تیز ہو سکتی ہیں کہ انسان محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کی خوشنودی کے لئے اعمال بجالائے اور اعمال کے بجالانے میں استقلال اور دوام اختیار کرے۔جب تک اعمال میں استقلال اور مداومت کا رنگ نہ ہو اُس وقت تک وہ انسان کی روحانی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوتے۔کچھ دن تک التزام سے نماز پڑھنا پھر چھوڑ دینا، کچھ دن اصلاح وارشاد کے کام میں جوش دکھانا پھر خاموشی اختیار کر لینا، کچھ دن تک قربانی کرنا اور پھر تھک جانا یہ ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے انسان کی روحانی زندگی خطرہ میں ہوتی ہے اور وہ لوگ جو ایسا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے جاذب نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ کے فضل پورے طور پر انہیں لوگوں پر نازل ہوتے ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر اعمال بجالاتے ہیں اور اس بات کے محتاج نہیں ہوتے کہ نبی یا خلیفہ اُن کو بار بار توجہ دلائے۔وہ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ کسی بڑے آدمی نے تحریک کی ہے یا کسی چھوٹے آدمی نے ، بلکہ وہ ہر نیک تحریک پر خواہ وہ نبی کی طرف سے ہو یا خلیفہ کی طرف سے ہو یا اُس کے کسی نائب کی طرف سے ہو لبیک کہنے کیلئے تیار رہتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مورد بنتے ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ لوگ نبی یا خلیفہ کی خاطر کام کریں۔موحد قوم وہی ہوتی ہے کہ خواہ نبی یا خلیفہ زندہ رہے یا فوت ہو جائے اُس کے اخلاص میں اور اُس کے جوش میں کمی نہ آئے بلکہ وہ اُسی جوش اور اخلاص سے کام کرتی چلے جائے جس جوش اور اخلاص سے وہ پہلے کام کرتی تھی۔اور یہ حقیقت ہے کہ جو قوم پورے طور پر موحد ہوا سے دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔نہ حکومتیں اسے کوئی گزند پہنچا سکتی ہیں اور نہ بادشاہتیں اُس کا کچھ بگا ڑسکتی ہیں ہمیشہ شرک ہی قوموں کی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہوتا ہے۔پس دوستوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ آپ لوگوں کے اعمال میں کسی قسم کی