انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 177

انوار العلوم جلد ۱۸ 16 نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں ملونی نہ ہو اور ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو اختیار کرنے کی کوشش کریں۔اس میں مداومت اختیار کریں اور کسی بات کے متعلق بھی آپ لوگوں کو بار بار توجہ دلانے کی ضرورت نہ ہو بلکہ ایک آواز ہی آپ کے لئے کافی ہو جو قوم اس بات کی عادی ہو کہ اُسے بار بار بیدار کیا جائے اسے اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہئے کیونکہ انبیاء اور خلفاء تو اللہ تعالیٰ کی سواریاں ہوتے ہیں جو بوقتِ ضرورت بندوں کو عطا کی جاتی ہیں اور وہ بڑی حد تک جماعتوں کے بوجھوں کو اُٹھاتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ سہولت کے لئے اپنے بندوں کو یہ سواریاں دے دے تو یہ اُس کا احسان ہوتا ہے اور اگر یہ سواریاں نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کی جماعتوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ اِن بوجھوں کو خود اُٹھا ئیں۔اگر کسی والد کو اپنا بچہ اٹھا کر لے جانے کے لئے سواری نہ ملے تو وہ اُس کو پھینک نہیں دیتا بلکہ خود اُٹھا کر لے جاتا ہے۔اور موت فوت کا سلسلہ تو انسانوں کے ساتھ جاری ہے اس لئے نہ کسی انسان پر بھروسہ کرنا جائز ہے اور نہ بھروسہ کرنا چاہئے۔حدیث میں آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو مدینہ کے لوگوں کے لئے بہت بڑے ابتلاء کی صورت پیدا ہو گئی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُس وقت مدینہ میں موجود نہ تھے۔آپ جب مدینہ میں آئے تو آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا علم ہوا اور آپ کو لوگوں کی حالت کا بھی علم ہوا۔آپ مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مَحَمَّدًا الا الله فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدَمَاتَ ك کہ جو شخص تم میں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا یعنی آپ کی خاطر نماز پڑھتا تھا یا آپ کی خاطر روزہ رکھتا تھا یا آپ کی خاطر ز کوۃ دیتا تھا اُسے جان لینا چاہئے کہ اُس کا معبود فوت ہو گیا ہے اور اب اُسے ان اعمال کے بجالانے کی ضرورت نہیں۔وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، اور جو شخص تم میں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور دوسرے احکام پر عمل کرتا تھا اُسے اب بھی یہ اعمال کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اس پر کبھی موت وارد نہیں ہوسکتی۔پس جن لوگوں میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے کہ خواہ کوئی زندہ رہے یا فوت ہوان کے اعمال