انوارالعلوم (جلد 18) — Page 174
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۷۴ نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں انسان کو بھی کروڑوں کروڑ نیکیاں کرنی چاہئیں۔قرآن مجید سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں مؤمنوں کے لئے افتراق اور جدائی کو پسند نہیں فرمایا۔پس وہاں اعلیٰ اور ادنیٰ کا امتیاز اس رنگ میں باقی نہیں رہے گا کہ وہ ایک دوسرے سے جدا رہیں بلکہ ان کو ایک درجہ میں جمع کر دیا جائے گا۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابراہیم ، حضرت موسی ، حضرت عیسی اور دوسرے انبیاء بھی جنت کی لذات سے اسی طرح سو فیصدی لطف اندوز ہو رہے ہوں گے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لطف اندوز ہور ہے ہوں گے۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ جذباتی لحاظ سے انسان پر اس کے پیاروں کی جدائی شاق گزرتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ادنی اور اعلیٰ کے امتیاز کو مٹا کر ایک ہی مقام میں اُن کو جمع کر دے گا مگر اِس کے باوجود اُن میں مدارج کا امتیاز ہوگا۔ایک ہی پلیٹ سے دو آدمی کھانا کھاتے ہیں تو ہر ایک ان میں سے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اس سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ہر روز گھر میں کھانا پکتا ہے ، میاں ، بیوی، بچے اور دوسرے رشتہ دار سے کھاتے ہیں مگر کیا وہ سارے کے سارے ایک سا مزہ اُٹھاتے ہیں حالانکہ وہ سب کے سب ایک ہی کھانے میں شریک ہوتے ہیں پس مشارکت سے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ سب مزہ اُٹھانے میں بھی برابر ہوں۔جنت میں مشارکت بھی ضروری ہے کیونکہ اگر سارے رشتہ دار ان نعمتوں میں شامل نہ ہوں تو جنت پورا انعام نہیں کہلا سکتی۔باپ کہے گا میرا بیٹا میرے پاس نہیں ہے، بیوی کہے گی میرا خاوند میرے پاس نہیں ہے ، خاوند کہے گا کہ میری بیوی میرے پاس نہیں ہے ، بیٹا کہے گا میرے ماں باپ میرے پاس نہیں ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ سب کو جمع کر دے گا مگر با وجود ایک جگہ جمع ہونے کے ضروری نہیں کہ وہ سب جنت کی نعمتوں سے ایک جیسا لطف اُٹھا ئیں۔جیسا کہ ہمارے گھروں میں عام طور پر ایک ہی کھانا پکتا ہے یہ کبھی نہیں ہوا کہ بیوی خاوند کیلئے تو پلاؤ پکائے ، بچوں کیلئے قو ر ما پکائے اور اپنے لئے دال پکائے ، کوئی آدمی بھی گھر میں اس تفریق کو پسند نہیں کرتا۔لیکن باوجود اس کے کہ وہ سب ایک ہی کھانے میں شریک ہوتے ہیں اُن کے ذوق اور اُن کے مزے میں اختلاف ہوتا ہے۔اگر ان میں سے کوئی بیمار ہے تو وہ اور مزہ اُٹھائے گا،