انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 173

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۷۳ نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں پس جو شخص سوچ سمجھ کر اعمال بجالاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ وہ کسی نیکی سے محروم نہ رہے اُسے ہر نماز کے ذریعہ ایک نئی طاقت دی جاتی ہے۔اگر وہ حج کرتا ہے تو اُسے ایک نئی طاقت عطا کی جاتی ہے، اگر زکوۃ دیتا ہے تو اُسے ایک نئی طاقت عطا کی جاتی ہے۔اگر وہ کسی کو تعلیم دیتا ہے تو اُسے ایک نئی طاقت عطا کی جاتی ہے، اگر وہ نیک بات کسی کو کہتا ہے تو اسے ایک نئی طاقت عطا کی جاتی ہے، اگر وہ کسی کی تربیت کرتا ہے تو اُسے ایک نئی طاقت عطا کی جاتی ہے، اگر وہ اچھے کلے کی کسی کو تلقین کرتا ہے تو اُسے ایک نئی طاقت عطا کی جاتی ہے، اگر وہ ظلم و تعدی کو دور کرتا ہے تو اُسے ایک نئی طاقت عطا کی جاتی ہے ، اگر وہ کسی یتیم یا بیوہ کے بوجھ کا کفیل بنتا ہے تو اُسے ایک نئی طاقت عطا کی جاتی ہے، اگر وہ کسی مصیبت زدہ کی مدد کرتا ہے تو اُسے ایک نئی طاقت عطا کی جاتی ہے ، ہر نیکی جو انسان کرتا ہے اس کے ذریعہ وہ اپنی ایک نئی حس اور نئی طاقت کو زندہ کرتا ہے جو جنت میں اس کے کام آنے والی ہے۔جتنی نعمتیں جنت میں ہیں اگر انسان چاہے کہ ان سب سے لطف اُٹھائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے مقابل پر زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرے۔جس طرح انسان دنیا میں اچھے نظارے دیکھ کر لطف اُٹھاتا ہے۔ناک سے خوشبو سونگھ کریا کانوں سے اچھی آوازوں کو سُن کر لطف اندوز ہوتا ہے یا زبان سے چکھ کر لذت اُٹھاتا ہے۔اور ہر ایک چیز کی سینکڑوں بلکہ ہزاروں قسمیں ہوتی ہیں۔نظارے دنیا میں ہزاروں قسم کے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اعلیٰ ہوتے ہیں۔اسی طرح خوشبوئیں بھی ہزاروں قسم کی ہوتی ہیں اور چیزوں کے ذائقے بھی ہزاروں قسم کے ہیں۔ہر ایک آدمی کا ذوق مختلف ہوتا ہے بعض آدمی خرش چیز کو پسند کرتے ہیں لیکن بعض آدمی ترش چیز کو سخت نا پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے ذوق کے مطابق نہیں ہوتی اور جن کو ترش چیز پسند ہے وہ بھی سارے کے سارے کسی ایک چیز کو پسند نہیں کرتے بلکہ مختلف طبائع مختلف چیزوں کو پسند کرتی ہیں کیونکہ تُرش چیزیں کوئی ایک دو قسم کی نہیں بلکہ ہزاروں قسم کی ہیں بعض مٹھاس کو پسند کرتے ہیں ، آگے مٹھاس کی بھی ہزاروں قسمیں ہیں ، بعض کو گر پسند ہوتا ہے ، بعض آم کو پسند کرتے ہیں ، بعض کو زردہ پسند ہوتا ہے، بعض کو فیرنی پسند ہوتی ہے۔یہ سب چیزیں میٹھی ہیں لیکن کسی کو کوئی میٹھی چیز پسند ہوتی ہے اور کسی کو کوئی۔اسی طرح جنت کی نعمتیں بھی لاکھوں کروڑوں قسم کی ہوں گی مگر ان کے مقابل پر