انوارالعلوم (جلد 18) — Page 141
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۴۱ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید عبادت گزار کیوں نہ ہوں اور زبان دی ہے تو وہ عبادت گزار کیوں نہ ہو اس لئے قرآن شریف دیکھ کر پڑھتا ہوں اور زبان سے دُہراتا جاتا ہوں اور ساتھ ساتھ اُنگلی بھی رکھتا چلا جاتا ہوں تا کہ اُنگلی بھی عبادت گزار ہو جائے۔تو جتنی حسیں زیادہ کام کرتی چلی جاتی ہیں تو اب بھی بڑھتا چلا جاتا ہے اسی طرح حافظے میں جتنی زیادہ حسیں لگائیں گے اتنی ہی زیادہ بات یا در ہے گی۔جس کام میں کان، آنکھ اور قوت لامسہ تینوں لگ جائیں وہ زیادہ دیر تک حافظہ میں قائم رہے گی تو جن چیزوں کو انسان کبھی کبھار استعمال کرتا ہے وہی حافظہ میں زیادہ قابل قدر سمجھی جاتی ہیں کیونکہ کبھی کبھا ر آنے والے انسان کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے۔دماغ میں ایک بڑی لائبریری بنی ہوئی ہے جس طرح دنیا میں لائبریریاں ہیں۔دنیا کی لائبریریاں چھوٹی ہیں لیکن دماغ میں اتنی بڑی لائبریری ہے کہ اربوں ارب کو ٹھڑیاں اس میں ہیں ہر چیز جسے انسان دیکھتا ہے یا جسے انسان سنتا ہے اُسی وقت حافظہ کے نگران اُس چیز کو جسے وہ دیکھتا ہے یا سنتا ہے یا چھوتا ہے یا چکھتا ہے یا سونگھتا ہے فوراً ہر الگ الگ چیز کو الگ الگ کوٹھڑیوں میں رکھ دیتے ہیں۔غرض ہر بات کے لئے ایک الگ کوٹھڑی موجود ہے فوراً اُسے وہاں رکھ دیا جاتا ہے اور ہر ادنی حرکت جو ہم کرتے ہیں وہاں محفوظ ہوتی چلی جاتی ہے۔پھر جب ہمیں کسی وقت کوئی خیال آتا ہے مثلاً ہم نے زید کو دیکھا اُس کو دیکھتے ہی دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے یہ تو ہمارا پرانا واقف ہے ، ہمارے محلے کا رہنے والا ہے اور ہمیں فلاں جگہ ملا تھا۔پہلے اس کو ان باتوں کا بالکل خیال نہیں ہوتا لیکن جس طرح ایک افسر جب دفتر میں آتا ہے اور اس کے سامنے مسل پیش ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے اس کے متعلق پہلے کا غذات پیش کرو اسی طرح جب زید سامنے آتا ہے تو جو دماغ کے لائبریرین ہیں اُن کو فوراً حکم دے دیا جاتا ہے کہ اس کی مسل مکمل کر کے پیش کرو۔اس پر وہ اس کی مسل مکمل کرتے ہیں وہ مختلف خانوں سے جو جو باتیں اس سے متعلق ہوتی ہیں انہیں اکٹھا کرتے ہیں اور اس کے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور وہ اُسے ملتے ہی کہتا ہے آپ میرے رشتہ دار ہیں مجھے فلاں جگہ ملے تھے ، آپ کا گھر فلاں جگہ ہے، آپ ہماری بیوی کے فلاں رشتہ دار ہیں ، آپ کی والدہ ہماری خالہ لگتی ہیں وغیرہ وغیرہ حالانکہ زید کو دیکھنے سے پہلے یہ خیالات اُس کے ذہن میں نہ تھے مگر سامنے آتے ہی