انوارالعلوم (جلد 18) — Page 140
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۴۰ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید ایک اور موٹی مثال دیکھو! زندگی میں ہم کتنی چیزوں کو دیکھتے ہیں جن کا مادی زندگی سے تعلق ہوتا ہے، مادی زندگی کے لحاظ سے ہمارے جاگنے کی حالت حقیقی ہے اور رڈیا کی حالت غیر حقیقی ہے۔اور اگلے جہان کے لحاظ سے رؤیا کی حالت حقیقی ہے اور مادی زندگی کی غیر حقیقی۔پس جہاں تک اس جہاں کا تعلق ہے ہماری رؤیا کی حالت غیر حقیقی ہے اور جاگنے کی حالت حقیقی ہے اب اپنی عمر میں تم اندازہ لگا کر دیکھو کہ عام طور پر آدمی اپنی عمر میں چند رؤیا دیکھتا ہے اور اس کے مقابل پر اربوں ارب نظارے جاگنے کی حالت میں دیکھتا ہے لیکن ان میں سے اکثر بھول جاتے ہیں لیکن جو خواب کے نظارے ہوتے ہیں ان میں سے بعض پر بعض اوقات چالیس پچاس سال گزر جاتے ہیں لیکن وہ نہیں بھولتے۔کوئی شخص خواب دیکھتا ہے وہ کہتا ہے میں نے ایک بڑا خوشنما درخت چالیس سال ہوئے دیکھا اور اس کے مقابل پر جاگتے ہوئے وہ روزانہ جو بڑے بڑے خوشنما درخت دیکھتا ہے وہ یاد نہیں رہتے کیونکہ مادی آنکھوں کے نظارے وہ روزانہ کرتا ہے اور خواب کی آنکھ سے کبھی کبھی نظارہ دیکھتا ہے یہی فرق دیکھنے اور سننے کی جس کا ہے۔انسان کی دیکھنے کی جس ہر وقت کام کرتی ہے اور سننے کی جس اِس سے کم کام کرتی ہے اس لئے سننے کی جس کا قوت حافظہ پر زیادہ اثر پڑتا ہے بہ نسبت دیکھنے والی جس کے۔پھر بعض دفعہ دو دو، تین تین حسیں مل کر ایک کیفیت کو محسوس کرتی ہیں وہ حافظہ پر اور بھی گہرا اثر ڈالتی ہیں اسی لئے اگر ایک جس سے کوئی ثواب کا کام کیا جائے اور اس کے ساتھ دوسری ایک دو اور جوں کو بھی ملا لیا جائے تو زیادہ ثواب ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض مسلمان بزرگ با وجود اس کے کہ اُن کو قرآن شریف حفظ ہوتا تھا وہ قرآن شریف کو کھول کر اُسے آنکھوں سے دیکھتے تھے، زبان سے پڑھتے تھے اور ساتھ ساتھ اُنگلی چلاتے جاتے تھے۔کسی ایسے ہی بزرگ سے جب کسی نے پوچھا کہ یہ کیا حرکت ہے جب آپ کو قرآن شریف حفظ ہے تو پھر قرآن شریف دیکھ کر کیوں پڑھتے ہیں اور اگر قرآن شریف دیکھ کر پڑھتے ہی ہیں تو ساتھ ساتھ منہ سے کیوں دُہراتے جاتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ اُنگلی ہلاتے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے جواباً کہا کہ میاں ! خدا تعالیٰ کے سامنے ہر چیز کا جائزہ ہوگا اگر میں نے حافظہ کے ذریعہ پڑھا تو صرف دماغ عبادت گزار ہو گا جب خدا تعالیٰ نے مجھے آنکھیں دی ہیں تو یہ