انوارالعلوم (جلد 18) — Page 142
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۴۲ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید ساری کی ساری مسل مکمل ہو کر پیش ہو جاتی ہے۔تو جتنے زیادہ حواس کسی چیز کے محسوس کرنے میں استعمال ہوتے ہیں اُتنی ہی زیادہ وہ حافظہ میں قائم رہتی ہے کیونکہ اُسے لائبریری کی کئی الماریوں میں رکھا جاتا ہے اور لائبریرین کا اسے نکالنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔اگر ایک الماری اُس کے ذہن سے نکل گئی ہو تو دوسری الماری اُسے اس کے وجود کا پتہ دے دیتی ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے حافظہ کے متعلق ایک بڑا لطیف اور وسیع قانون بنایا ہے اور اس قانون سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں سنی ہوئی باتیں ہمیں زیادہ یا درہتی ہیں یہ نسبت دیکھی ہوئی باتوں کے۔(جس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ سُنی ہوئی بات اپنی اصلی شکل میں قائم رہتی ہے اور دیکھی ہوئی چیز بدلتی رہتی ہے جیسے انسانوں کی شکلیں ، مکانات ، سٹرکوں وغیرہ کی حالت ) میری تقریر کو ہی لے لو اس کا سننا زیادہ اہم ہے پڑھنے سے۔کیونکہ زیادہ آدمی سننے والے ہیں اور پڑھنے والے تھوڑے ہیں، پڑھنے والے اگر بعد میں پڑھ لیں تو پڑھ سکتے ہیں لیکن اکثر حصہ تعلیم یافتہ نہیں ہے اس لئے ہمیں پڑھے ہوؤں کی اتنی فکر نہیں جتنی ان پڑھوں کی۔ہمارے ملک میں چھ فیصدی آدمی پڑھے ہوئے ہیں اور ۹۴ فیصد آدمی ان پڑھ ہیں۔ہمیں چھ فیصدی پڑھے ہوؤں کی اتنی فکر نہیں ہونی چاہئے جتنی ۹۴ فیصدی آن پڑھوں کی۔یہ سیدھی اور صاف بات ہے کہ اگر کسی قوم کے ۹۴ فیصدی افراد خراب ہوں گے تو چھ فیصدی اس سے بچ نہیں سکتے۔لکڑی تیرتی ہے اور پتھر ڈوبتا ہے لیکن اگر بڑی لکڑی پر ایک چھوٹے سے پتھر کو رکھ دیں تو وہ بھی تیرتا ہے اور اگر چھوٹی سی لکڑی پر ایک بڑی سل رکھ دیں تو لکڑی بھی ساتھ ہی ڈوب جائے گی تو کثرت ، قلت کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔پس اگر چھ فیصدی آدمی قرآن شریف پڑھ لیں اور اُسے اچھی طرح جان لیں اور ۹۴ فیصدی آدمی قرآن شریف نہ جانتے ہوں تو روحانی اصلاح نہیں ہو سکتی جب تک سو فیصدی آدمی قرآن شریف نہ پڑھ لیں ، اُسے سمجھ نہ لیں ، اُسے اچھی طرح جان نہ لیں ہم محفوظ نہیں ہو سکتے اس لئے ضروری ہے کہ باقی ۹۴ فیصدی کو بھی ہم پڑھائیں ، ان کی مستیوں کو دور کریں اور بار بار کہہ کر اُن کو مجبور کر دیں کہ وہ قرآن شریف کو سنیں اور یاد کریں اور ان کی توجہ اس طرف پھیر دیں کہ اُن کے لئے قرآن شریف کا سننا اور یاد کرنا ضروری ہے۔