انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 508

انوار العلوم جلد کا ۵۰۸ ہیں یعنی اُس کے قدم اُٹھانے کے بعد جو موت سے مراد ہے، اُن کا آنا ضرور ہے۔سواے وے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہوا اور خوشی سے اچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی۔۲۰۰۰۔پھر حضرت خلیفہ اُسیح الاوّل کے نام اپنے ایک خط میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔وفات بشیر پر لوگوں کی شورش پر یہ الہام ہوا۔اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَتُونَ - وَقَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَوا تَذْكُرُ يُوْسُفَ حَتَّى تَكُوْنَ حَرَضاً أَوْتَكُونَ مِنَ الْهَالِكِيْنَ - شَاهَتِ الْوُجُوهُ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّى حِينٍ إِنَّ الصَّابِرِينَ يُوَفَّى لَهُمْ أَجْرُهُمْ بِغَيْرِ حِسَابِ - ) ( یعنی کیا لوگ یہ سمجھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کو بغیر امتحان لینے کے یونہی چھوڑ دے گا ایسا نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے خاص بندوں کے زمانہ میں لوگوں کے ایمانوں کا امتحان لیا کرتا ہے اور اس زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوگا۔چنانچہ اسی وجہ سے یہ پیشگوئی بعض لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنی کیونکہ انہوں نے غلط اجتہاد سے کام لیا اور اس خیال میں مبتلا ہو گئے کہ پیشگوئی سچی ثابت نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لوگ تجھے کہیں گے کہ جس کی خبر تو دے رہا ہے وہ تجھے کبھی نہیں ملے گا جس طرح یوسف کے بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ تو اسی طرح یوسف کا ذکر کرتا رہے گا یہاں تک کہ تیری عقل یا تیرے جسم میں بیماری پیدا ہو جائے گی اور یا تو اسی غم میں ہلاک ہو جائے گا۔اس زمانہ کے لوگ بھی تجھے کہیں گے کہ تیرے ہاں کوئی ایسا بیٹا پیدا نہیں ہو گا تو اسی طرح اس کا ذکر کرتے کرتے مر جائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شَاهَتِ الْوُجُوهُ - اِن کہنے والوں کے منہ کالے ہو جائیں گے۔فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّى حِینِ۔کچھ دیر کے لئے تو ان سے منہ پھیر لے۔اللہ تعالی بہر حال اس پیشگوئی کو پورا کرے گا۔اِنَّ الصَّابِرِينَ يُوَفَّى لَهُمُ أَجْرُهُمْ بِغَيْرِ حِسَابِ وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کو اعلیٰ سے اعلیٰ اجر عطا فرمائے گا۔) پھر اسی خط میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔الموعود