انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 507

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۰۷ الموعود رہتا تو نبی بن جا تا صاف بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہا ما بتایا تھا کہ ابراہیم کی ذاتی قابلیت نبوت کی مستحق ہے مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ عمر پانے والا نہیں تھا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ بشیر اول بیشک اپنے ذاتی کمالات کے لحاظ سے مبشر تھا ، بشیر تھا ، نور اللہ تھا، صیب تھا، چراغ دین تھا مگر خدا کی مشیت میں وہ عمر پانے والا نہیں تھا جیسا کہ خدا کی طرف سے ہی بتایا گیا تھا کہ وہ مہمان کی طرح تمہارے پاس صرف چند دنوں کے لئے آئے گا۔لیکن بعد کی خبریں اس بچہ کے متعلق ہیں جس کے متعلق یہ خبر ہے کہ وہ مصلح موعود ہوگا اور اسلام صلى الله اور رسول کریم علیہ کا نام دنیا کے کناروں تک پھیلائے گا۔ظلمت کے بعد روشنی کے ظہور کی خبر پھر فرمایا۔الها می۔۔۔عبارت کی ترتیب بیانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسر متوفی کے قدم اُٹھانے کے بعد پہلے ظلمت آئے گی اور پھر رعد اور برق۔اس ترتیب کے رُو سے اس پیشگوئی کا پورا ہونا شروع ہوا یعنی پہلے بشیر کی موت کی وجہ سے ابتلاء کی ظلمت وارد ہوئی (یعنی جب وہ فوت ہو گیا تو کئی لوگوں کو ٹھو کر لگی۔اُن کے دلوں میں کئی قسم کے شکوک وشبہات پیدا ہو گئے اور انہوں نے سمجھا کہ پیشگوئی غلط ثابت ہوئی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں لوگوں کے یہ اعتراضات اُن کی کم فہمی کا نتیجہ تھے۔اس ظلمت کا پہلے وارد ہونا الہامات کے رُو سے ضروری تھا ) اور پھر اس کے بعد رعد اور روشنی ظاہر ہونے والی ہے۔‘‘ 19 یعنی بشیر اوّل کی وفات سے جو ابتلا کی ظلمت پیدا ہوگئی تھی وہ اب دُور ہوگی اور اس کے بعد رعد اور روشنی کا ظہور ہو گا یعنی وہ لڑکا پیدا ہو گا جو زندہ رہنے والا ،اسلام کی تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچانے والا اور رسول کریم ﷺ کی شان اور آپ کی عظمت کو بلند کرنے والا ہوگا اور وہ تمام کام سرانجام دے گا جن کا پیشگوئی میں تفصیلاً ذکر آتا ہے۔66 پھر اور زیادہ وضاحت سے تحریر فرماتے ہیں۔”صاف ظاہر کیا گیا کہ ظلمت اور روشنی دونوں اس لڑکے کے قدموں کے نیچے