انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 509

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۰۹ ایک الہام میں اس دوسرے فرزند کا نام بھی بشیر رکھا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا۔یہ وہی بشیر ہے جس کا دوسرا نام محمود ہے۔جس کی نسبت الموعود فرمایا اولوالعزم ہوگا اور حسن اور احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۲۲ ان الہامات اور حوالوں سے ثابت ہے کہ جس موعود کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی گئی تھی ، اُس نے یقیناً ایسے ہی زمانہ کے لوگوں میں آنا تھا جو اس پیشگوئی کے مخاطب تھے کیونکہ جو سات اغراض اس پیشگوئی کی ظاہر کی گئی ہیں وہ اسی زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔وہ سات اغراض میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔لیکن اس موقع پر پھر اُن کا ذکر کرنا ضروری ہے۔پیشگوئی مصلح موعود کی سات اہم اغراض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اپنے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرمایا ہے کہ یہ پیشگوئی جو دنیا کے سامنے کی گئی ہے ، اس کی کئی اغراض ہیں۔اوّل یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے کہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت سے نجات پائیں اور جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آئیں۔اگر یہ سمجھا جائے کہ اس پیشگوئی نے چار سو سال کے بعد پورا ہونا ہے تو اس کے معنی یہ بنیں گے کہ میں نے یہ پیشگوئی اس لئے کی ہے کہ جو آج زندگی کے خواہاں ہیں وہ بے شک مرے رہیں چار سو سال کے بعد اُن کو زندہ کر دیا جائے گا۔یہ فقرہ بالبداہت باطل اور غلط ہے۔آپ فرماتے ہیں یہ چلہ اس لئے کیا گیا ہے تا کہ وہ لوگ جو دینِ اسلام سے منکر ہیں ، اُن کے سامنے خدا تعالیٰ کا ایک زندہ نشان ظاہر ہو اور جو رسول کریم علیہ کی کرامت کا انکار کر رہے ہیں ان کو ایک تازہ اور زبر دست مثبوت اس بات کا مل جائے کہ اب بھی خدا تعالیٰ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے۔وہ الہامی الفاظ جو اس پیشگوئی کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہیں یہ ہیں کہ: ” خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں با ہر آدیں۔اب اگر اُن لوگوں کے نظریہ کو مسیح سمجھ لیا جائے جو یہ کہتے ہیں کہ مصلح موعود تین چار سو سال