انوارالعلوم (جلد 17) — Page 82
انوار العلوم جلد کا ۸۲ اور اُس کے بیوی بچے بھی اُس کو دیکھتے ہیں۔لیکن فرماتا ہے ہمیں جب محمد رسول اللہ علیہ نے دیکھا تو ہم اُس سے ایک محبت کرنے والے دوست کی طرح ملے اور اُس نے ہمارے بڑے بڑے نشانات دیکھے۔افر آيتُمُ الله وَالْعُزَّى وَمَنْوة الثَّالِثَة الأخرى فرماتا ہے یہ تو محمد رسول الله الا الله کا حال ہے۔اس کے مقابلہ میں کفار و مشرکین جو کہتے ہیں کہ ہم لات کو خدا مانتے ہیں ، ہم عربی کو خدا مانتے ہیں ، ہم منات کو خدا مانتے ہیں اُن کی حالت بھی دیکھو۔فرماتا ہے لات ، منات اور عربی تو ایسی چیزیں ہیں جو حواس خمسہ سے دیکھی جاسکتی ہیں۔تم لات، منات اور عڑی کو آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو، ہاتھوں سے چُھو سکتے ہو ان پر جو تیل وغیرہ ملا جاتا ہے اُس کی خوشبو اپنی ناک سے سُونگھ سکتے ہو، اُن جُوں کو ٹھکور کر اُن کی آواز میں سُن سکتے ہو، انہیں زبان لگا کر چکھ سکتے ہو۔غرض ہر طرح ان بچوں کو دیکھا جا سکتا ہے اور تم دعوی بھی کرتے ہو کہ ہم نے اپنے ان خداؤں یعنی لات ، منات اور عڑی کو خوب دیکھا ہو ا ہے پھر یہ کیا بات ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کے نتیجہ میں تم رات ، منات اور عڑی کے تو منکر ہو جاتے ہو جن کو تم صلى الله صلى الله اپنے پانچوں حواسوں سے دیکھ رہے ہوا اور محمد رسول اللہ یہ اس خدا کا وجو دلوگوں سے منوا لیتے ہیں جسے نہ آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے، نہ ہاتھوں سے چھوا جا سکتا ہے، نہ زبان سے چکھا جا سکتا ہے اور نہ اُس کا کلام ان مادی کانوں سے سُنا جا سکتا ہے۔گویا پانچوں حواس ظاہری سے بتوں کو دیکھنے کے باوجود تم میں طاقت نہیں کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ کے ایمان میں خلل ڈال کر دکھا سکولیکن محمد رسول اللہ ﷺ تمہیں باوجود ان بتوں کو اپنے تمام ظاہری حواس سے دیکھنے کے محبہ میں ڈال دیتے ہیں اور تمہیں ان بتوں کی بجائے اُس خدا کی طرف لے جاتے ہیں جسے کوئی بھی اپنے ظاہری حواس سے نہیں دیکھ رہا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کتنی زبردست دلیل ہے جومحمد رسول اللہ نے کی صداقت کی دلیل اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی صلى الله صداقت کی ایک زبر دست دلیل کہ دیکھنا تو اس کا ہوتا ہے جو دیکھنے کے بعد اپنی رؤیت میں کسی قسم کا شک نہ کر سکے مگر مشرکوں کی تو یہ حالت ہے کہ وہ اُن چیزوں کو دیکھنے کا