انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 83

۸۳ انوار العلوم جلد ۱۷ دعوی کرتے ہیں جنہیں ظاہری حواس خمسہ سے معلوم کیا جا سکتا ہے، جنہیں ظاہری حواس سے پہچانا جا سکتا ہے مگر باوجود اس کے کہ وہ ان چیزوں کو دیکھنے کے مدعی ہیں جو حواس خمسہ سے نظر آ جاتی ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔انہیں اپنے بتوں کو توڑنا پڑتا ہے، اپنے عقائد کو بدلنا پڑتا ہے، اپنے خیالات کو تبدیل کرنا پڑتا ہے اور اُس خدا پر ایمان لانا پڑتا ہے جو ظاہری حواس سے نہیں دیکھا جاتا۔پس فرماتا ہے اے مشرکو! تمہیں حواس خمسہ سے محسوس کرنے کے باوجود بتوں کے وجود میں مشبہ ڈالا جا سکتا ہے لیکن حواس خمسہ سے بالا وجو د الہی کے بارہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبہ میں نہیں ڈالا جا سکتا۔اس تقابل سے صاف ظاہر ہے کہ تم نے اپنے بتوں کو دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دیکھا جسے اور لوگ نہیں دیکھ سکتے۔پھر تمہیں تو حواسِ خمسہ سے دیکھنے کے باوجود دھوکا لگ گیا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حواس خمسہ سے بالا وجود الہی کے دیکھنے میں کوئی دھوکا نہ لگا اور وہ ساری دنیا کو اُسی خدا کی طرف کھینچ کر لے گیا۔یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک جگہ تحریر فرمایا ہے کہ ” جیسا کہ آفتاب اور اُس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اُس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اُس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے۔اس یہ وہی بات ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ مشرک لات ، منات اور غنڈی کو اپنے حواس خمسہ سے دیکھنے کے باوجود اُن کو دیکھنے میں غلطی کر رہے ہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس ہستی کو دیکھ کر غلطی نہیں کر رہا جو ان حواسِ خمسہ سے نہیں دیکھی جاسکتی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کے اُس یقین اور وثوق کا اظہار کرتے ہوئے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر تھا بلکہ آپ کی اُمت اور آپ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے یقین اور وثوق کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔قُل هذه سبيل ادْعُوا إِلَى اللَّهِ تَدَ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي ، وَ سُبحن الله و ما أَنَا مِنَ الْمُشْرِكتین ۲۲ یعنی اے محمد رسول اللہ ! تو دنیا کو کہہ دے هذه سبیل یہ میرا راستہ ہے۔چنانچہ اس سے پہلی آیتوں میں اس راستہ کا b