انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 81

۸۱ انوار العلوم جلد ۱۷ عینک لگانی پڑتی ہے۔میں بھی دُور کی چیز کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔لوگ یہاں جلسہ گاہ میں بیٹھے ہیں مگر مجھے اُن کی صرف سفید سفید پگڑیاں نظر آتی ہیں شکلیں صحیح طور پر نظر نہیں آتیں لیکن دوسری طرف اگر میں عینک لگا کر اپنے نوٹ پڑھنا چاہوں تو نہیں پڑھ سکتا۔گویا میری قریب کی نظر ا چھی ہے دُور کی نظر اچھی نہیں۔تو دنیا میں لوگوں کی آنکھوں میں دو قسم کے نقص ہوا کرتے ہیں۔بعض لوگ قریب کی چیز کو اچھی طرح دیکھ لیتے ہیں دُور کی چیز کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتے اور بعض لوگ ڈور کی چیز کو اچھی طرح دیکھ لیتے ہیں قریب کی چیز کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا زَاغَ البَصَرُ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں دیکھا اُن کی نظر کا فوکس بالکل اُسی جگہ پر تھا جہاں اُس کو پہنچنا چاہئے تھا۔نہ اُس مقام کے لحاظ سے محمد رسول الله عله شارٹ سائیٹنڈ تھے اور نہ لانگ سائیٹڈ تھے۔یعنی نہ تو ہم اتنے دُور تھے کہ اُن کی نظر قریب ہی رہ جاتی اور ہم دُور رہتے اور نہ ہم اتنے قریب تھے کہ اُن کی نظر دُور نکل جاتی اور ہم پیچھے رہ جاتے۔گویا نہ تو محمد رسول اللہ علیہ کی نظرور ے رہ گئی اور ہم پر ے رہ گئے کیونکہ آپ ایسے نہ تھے کہ آپ صرف قریب کی چیز کو دیکھ سکیں دُور کی چیز کو نہ دیکھ سکیں۔وماطفی اور نہ ایسا ہوا کہ ہم درے رہ گئے ہوں اور اُن کی نظر پرے چلی گئی ہو۔گویا نہ آپ شارٹ سائیٹڈ تھے اور نہ لانگ سائیٹڈ تھے۔یہ دونوں نقص محمد رسول اللہ ﷺ کی نظر میں نہ تھے۔رویت باری کا کامل نقشہ دیکھو! یہ کتنا کامل نقشہ محمدرسول اللہ ﷺ کی رویت کا کھینچا گیا ہے کہ ما زاغ البصر نہ تو جب محمد صلى الله الله رسول اللہ ﷺ نے خدا تعالیٰ کو دیکھا اُس وقت ایسی حالت تھی کہ خدا تعالیٰ بہت دُور تھا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نظر اتنی دُور نہ دیکھ سکتی ہو۔وما طفی اور جب محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دیکھا تو یہ بھی نہیں تھا کہ ہم اتنے قریب ہوتے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی نظر دور چلی جاتی۔ہم وہیں کھڑے تھے جہاں کھڑے ہو کر محمد رسول اللہ اللہ ہمیں پوری طرح دیکھ سکتے تھے۔الله لقد رأى من أيت ريه الكنبری پھر محمد رسول اللہ ﷺ نے صرف ظاہر کو نہیں دیکھا بلکه رأى من أيت ربه الکبری اُس نے اپنے رب کے بڑے بڑے نشانات کو دیکھا۔ایک رؤیت ایسی ہوتی ہے جس میں دشمن بھی شریک ہوتا ہے۔جیسے ایک چور بھی حج کو دیکھتا ہے