انوارالعلوم (جلد 16) — Page 526
۵۳ نظام تو انوار العلوم جلد ۱۶ نے اپنے سر کو منڈوا کر اُس پر چکنائی لگائی ہوئی تھی۔اُس کمزور آدمی نے جب پہلوان کو اس حالت میں دیکھا تو اُس کی طبیعت میں مذاق کے لئے ایسا جوش پیدا ہوا کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور اس نے انگلی سے اُس کے سر پر ایک ٹھینگا مارا۔پہلوان کو یہ دیکھ کر سخت غصہ آیا اور وہ اسے زمین پر گرا کر ٹھڈے مارنے لگا۔وہ مار کھاتا جاتا اور کہتا جاتا تھا کہ جتنا جی چاہے مار لو مگر جو مزا مجھے ٹھینگا مارنے میں آیا ہے وہ تم کو ساری عمر مار کر بھی نہیں آئے گا۔اب دیکھو وہ چونکہ کمزور تھا اس لئے اُس نے اسی بات کو بڑے فخر کا موجب سمجھا کہ اس نے ایک طاقتور کے جسم کو چھو لیا۔پس ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ظالم ہو مگر طاقتور ہو اور مظلوم اس پر غلبہ نہ پاسکتا ہو مگر فرماتا ہے ہم نے جو اجازت دی ہے وہ اس لئے دی ہے کہ ان پر حملہ کیا گیا اور اس لئے اجازت دی ہے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور اس لئے اجازت دی ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی مدد کریں اور ہمارا فرض ہے کہ ان کمزوروں کو طاقتوروں پر غالب کر دیں۔پس ہم نے انہیں خالی لڑنے کی اجازت نہیں دی بلکہ ہمارا ان کے ساتھ وعدہ ہے کہ ہم تمہارے ساتھ رہیں گے جب تک تم ظالم کو مغلوب نہیں کر لیتے۔پھر فرماتا ہے الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ وہ گھروں سے نکالے گئے بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی قصور کیا ہو۔اِلَّا اَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا الله ان کا گناہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے اسلام کو سچا مان لیا تھا اور وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ َو صَلَواتٌ وَّ مَسجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ الله | كَثِيرًا فرماتا ہے آئندہ زمانہ میں ایسے ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہیں جو محبت اور انسانیت کے نام پر اپیلیں کریں گے اور کہیں گے کہ لڑائی بہر حال بُری چیز ہے اور وہ کسی صورت میں نہیں ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ایسے لوگوں سے کہو کہ اگر اللہ کا یہ قانون نہ ہوتا کہ بعض کے مظالم بعض کے ذریعہ مٹا دیئے جائیں تو عبادت خانے اور علماء کے رہنے کی جگہیں اور بدھوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسجد میں سب برباد ہو جاتیں اور ان میں اللہ کا نام لیا جانا بند ہو جاتا کیونکہ تمہارے جنگ نہ کرنے سے ان لوگوں کے ارادے کس طرح بدل سکتے ہیں جو حکومت کا دائرہ وسیع کر کے مذہب پر بھی حکومت کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو اپنے منشاء کے مطابق مذہب رکھنے یا نہ رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔یہ لوگ جنگ کی قطعی ممانعت کے اعلان کو سن کر دلیر ہو جائیں گے اور نہ صرف دنیوی امور میں دست اندازی شروع کر دیں گے بلکہ لوگوں کے دین کو مٹا دیں گے اور عبادت کی جگہوں کو گرا دیں گے وَ لَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَّنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ