انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 527

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو لَقَوِيٌّ عَزِيزٌہ فرماتا ہے جو بھی اس لئے اُٹھے گا کہ خدا کے دین کو آزاد کرے خدا اس کی مدد کرے گا اور وہ قومی اور عزیز ہے۔جس قوم کے ساتھ اُس کی مدد ہو وہ کبھی مغلوب نہیں ہو ا کرتی۔پھر فرماتا ہے ایسے لوگ جو مذہبی آزادی کے قیام کے لئے اپنی جانوں اور مالوں کو قربان کرتے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ الَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّتَهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَ اتَوُا الزَّكَوةَ وَ اَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ اگر وہ دنیا پر قابض ہو جائیں تو طاقتور ہو کر دوسروں کوٹوٹیں گے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے، غریبوں کو مال دیں گے، خود بُرے کاموں سے بچیں گے ، نیکی کا حکم دیں گے اور بُرے کاموں سے روکیں گے۔اب بتاؤ کیا اس قسم کی لڑائی مسلمانوں کے اختیار میں ہے کہ جب ان کا جی چاہے لڑائی شروع کر دیں اور کفار کو قیدی بنانا شروع کر دیں۔اس قسم کے جنگی قیدی تو دشمن ہی بنوا سکتا ہے اور جب اس سے بچنا اس کے اختیار میں ہے تو پھر اگر وہ ایسی جنگ کرتا ہے تو یا تو وہ پاگل ہے اور یا پھر قید رہنے کے قابل کیونکہ اسے اختیار تھا کہ وہ حملہ نہ کرتا، وہ دوسروں پر ظلم نہ کرتا ، وہ دین کے لئے جنگ نہ کرتا اور اپنے آپ کو غلامی سے بچا لیتا۔اسلامی تعلیم کے مطابق جنگی قیدیوں کی رہائی لیکن فرض کرو ایسا حملہ ہو جائے اور بعض لوگ قیدی بن جائیں تو پھر جو لوگ قیدی بن کر آئیں ان کے لئے صاف اور واضح الفاظ میں یہ حکم موجود ہے کہ فَاِذَا الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا اثْخَمْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَ إِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرُبُ أَوْزَارَهَا ٢٠ یعنی اگر ایسا حملہ ہو جائے اور تمہیں لڑائی کرنی پڑے تو خدا تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اُن میں سے کچھ قیدی پکڑ لو مگر پھر ان سے کیا سلوک کرو اس بارہ میں ہمارے دو قانون ہیں اور تمہیں ان دونوں میں سے کسی ایک قانون کو ضرور ماننا پڑے گا اور وہ قانون یہ ہیں کہ اوّل فَا مَّا مَنَّا بَعْدَ یا تو احسان کر کے چھوڑ دو اور کہو کہ جاؤ ہم نے تمہیں بخش دیا وَ اِمَّا فِدَآء اور یا جنگ کا خرچ بحصہ رسدی قیدیوں سے لیکر انہیں رہا کر دو۔گویا دو صورتوں میں سے ایک صورت تمہیں ضرور اختیار کرنی پڑے گی۔یا تو تمہیں احسان کر کے انہیں آزاد کرنا پڑے گا اور یا پھر بحصہ رسدی ہر قیدی سے جنگ کا تاوان وصول کر کے انہیں آزاد کرنا پڑے گا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ان میں سے کوئی صورت بھی اختیار نہ کی جائے۔ہاں اگر کوئی شخص بطور احسان انہیں رہا کرنا نہیں چاہتا تو اُس وقت ۵۴