انوارالعلوم (جلد 16) — Page 525
۵۲ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام کو قوموں میں غلاموں کی کثرت ہوئی وہی قومیں آخر غلام کہلائیں۔بنو عباس کے عہد میں غلاموں کی کثرت تھی نتیجہ یہ ہوا کہ تمام بادشاہ لونڈی زادے ہوا کرتے تھے اور چونکہ غلام میں غلامی کے خیالات ہی ہوتے ہیں اس لئے گو وہ لفظاً آزاد تھے مگر معنا غلام ہی تھے۔انخان کے معنے عربی میں ایسی جنگ کے ہوتے ہیں جس میں خطرناک خونریزی ہو۔گویا معمولی جنگ میں غلام بنانا جائز نہیں بلکہ غلام ایسی حالت میں ہی بنائے جاسکتے ہیں کہ جب شدید جنگ ہو۔معمولی لڑائیاں تو انگریزوں اور پٹھانوں کے درمیان سرحد پر ہوتی ہی رہتی ہیں مگر ان جنگوں میں قیدی نہیں بنائے جاتے۔پر زنر آف وار (Prisoner of War) اُسی وقت جائز ہوتے ہیں جب باقاعدہ ڈیکلیئرڈ وار (Declared War) ہو معمولی شبخونوں میں ایسے قیدی بنانے جائز نہیں ہوتے۔اگر کوئی قوم اپنے لوگوں کو غلام بنانا نہیں چاہے گی تو وہ حملہ ہی کیوں کرے گی۔اور اگر حملہ کرے اور لڑائی اِثْخَانِ فِي الْأَرْضِ کی صورت اختیار کر لے تو پھر قیدی بنانا کسی صورت میں بھی قابلِ اعتراص نہیں سمجھا جاسکتا۔اسلام کی تعلیم کہ کوئی جنگ جائز نہیں مگر دفاعی پھر جنگ کے متعلق اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ کوئی جنگ جائز نہیں مگر دفاعی۔یعنی یہ جائز نہیں کہ خود ہی دوسروں پر حملہ کر دیا جائے اور لوگوں کو غلام بنا لیا لا جائے۔چنانچہ فرماتا ہے اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ۔الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا اَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتُ وَ مَسجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَ لَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ اَلَّذِينَ إِنْ مَّكَّتَهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكَوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ولِلهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ فرماتا ہے جنگ کی اجازت صرف انہی کو دی گئی ہے جن پر پہلے دوسروں نے حملہ کیا اور اس وجہ سے دی گئی ہے کہ اُن پر ظلم کیا گیا ہے وَاِنَّ اللهَ عَلى نَصْرِهِمْ لَقَدِیر اور اس لئے دی گئی ہے کہ مسلمانوں پر ایسا حملہ ہوا ہے کہ اب خدا چاہتا ہے اس کی تقدیر دنیا میں جاری ہو اور ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دے اور مظلوم کی مدد کرے۔ایسا ہو سکتا ہے کہ ظالم طاقتور ہو اور مظلوم کمزور ہو، ایسی صورت میں اگر کمزور آدمی لڑے گا تو بجائے غالب آنے کے وہ تباہ ہی ہوگا۔قصہ مشہور ہے کہ کوئی پہلوان ایک جگہ سے گزر رہا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے ایک دبلا پتلا شخص جارہا تھا۔پہلوان