انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 515

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو (اتحادی) طاقتیں بہت مدت تک اقتصادی اقتدار حاصل کرنے کی وجہ سے اب اس قوتِ اقدام کو کھو بیٹھی ہیں جو لا زمانٹی بڑھنے والی قوموں میں پائی جاسکتی ہے۔پس نئی اُبھرنے والی اقوام کا سلوک دوسرے ممالک کے لوگوں سے بُھو کے جاٹ والا ہوگا اور برسر اقتدار حکومتوں کا ایک بوڑھے تاجر جیسا۔جو تاجر بہت سا روپیہ کما لیتا ہے کنجوس تو وہ بھی ہوتا ہے اور وہ بھی اپنے مال میں اور زیادتی کا طالب رہتا ہے لیکن وہ اس پر بھی خوش ہوتا ہے کہ موجودہ حالت ہی قائم رہے اور کبھی کبھی اُس کے دل میں یہ خیال بھی آجاتا ہے کہ اب میں نے بہت کما لیا ہے اب میں اپنے کام سے پنشن لے لوں۔پس یہ جو برسر اقتدار حکومتیں ہیں ان میں اب اتنا جوش نہیں جتنا نئی حکومتوں میں جوش ہو سکتا ہے چنانچہ دیکھ لو کہاں انگلستان ہے اور کہاں انگریز لوگ چین کے کناروں تک حکومت کر رہے ہیں۔اسی طرح امریکہ کا اقتصادی اقتدار تمام دنیا پر چھایا ہوا ہے اور اب ان کا پیٹ اِتنا بھرا ہوا ہے کہ چلنا پھرنا بھی ان کے لئے مشکل ہو رہا ہے اور جو شخص اس قدر سیر ہو وہ ظلم نہیں کرتا یا کم کرتا ہے۔اس کی مثال تم ایسی ہی سمجھ لو کہ جس شخص کا پیٹ بھرا ہوا ہو اُس کے سامنے اگر تم پلاؤ بھی رکھو تو وہ دوچار تھے لے کر بس کر دے گا لیکن اگر وہی پلاؤ کی تھالی کسی بھوکے کے سامنے رکھو تو وہ نہ صرف یہ پلاؤ ہی کھا جائے گا بلکہ ممکن ہے کہ تمہارا کھانا بھی کھا جائے۔جرمن اور رومی اور ہسپانوی اس وقت بھوکے ہیں اس لئے اگر ان کا اقتدار آیا تو وہ کچھ مدت تک خوب بڑھ بڑھ کر ہاتھ ماریں گے اور مال ودولت کو ٹوٹتے چلے جائیں گے جیسے ہندوستان جب انگریزوں کے قبضہ میں آیا تو انہوں نے بھی ہندوستان کی اقتصادی حالت پر خوب قبضہ جمایا تھا۔یہی خواہش جرمن اور رومی لوگوں کی ہوگی وہ بھی کہیں گے کہ اب ہم نے ان کانوں پر قبضہ کیا ہے اب ہم بھی یہاں کے تیل اور سونے اور دوسری چیزوں سے فائدہ اُٹھائیں اور سو ڈیڑھ سو سال تک وہ ایسا کرتے چلے جائیں گے مگر انگریزوں کی مثال بُوڑھے تاجر کی سی ہے جو بڑھا ہو جاتا ہے، مال بڑھانے کی خواہش تو بے شک اس کی طبیعت میں موجود ہوتی ہے مگر کبھی کبھی اسے یہ بھی خیال آجاتا ہے کہ دولت بہت کمالی ہے اب پنشن لے لینی چاہئے۔اسی طرح ان قوموں کے دلوں میں بھی کبھی زیادہ طلبی کا خیال آ جاتا ہے مگر کبھی یہ خیال بھی آجاتا ہے کہ ہم نے بہت کمالیا اب قناعت کرنی چاہئے۔اسی طرح اگر انہیں کبھی ظلم کا خیال پیدا ہوتا ہے تو کبھی رحم کا خیال بھی آ جاتا ہے اور جن لوگوں کی دماغی حالت اس قسم کی ہو ان سے یقینا زیادہ آرام حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ