انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 516

۴۳ انوار العلوم جلد ۱۶ حکومت کر کے تھک چکے ہوتے ہیں۔نظام کو دوسرے یہ اقوام مذہب میں دخل اندازی کو پسند نہیں کرتیں اور سوائے کسی اشر سیاسی یا اقتصادی ضرورت کے مذہب کے بارہ میں مخفی دباؤ کو بھی پسند نہیں کرتیں۔اور اگر کوئی خدا ہے اور اُس کی طرف سے رسول دنیا میں آتے رہے ہیں اور اگر اُن کی تعلیمات پر عمل ہماری اُخروی زندگی کوسنوارنے کے لئے ضروری ہے تو پھر باوجود اس کے کہ ان اقوام کا طریق عمل بھی پورا منصفانہ نہیں بلکہ ایک حد تک خود غرضانہ ہے، ہر مذہب کا دلدادہ شخص ان اقوام کی فتح کو نیشنلسٹ سوشلزم والوں کی فتح پر بہت زیادہ ترجیح دے گا۔انگریزوں کی فتح کے نتیجہ میں بالشوزم کی فتح اور اس کا نتیجہ لیکن یہ بھی یادر ہے کہ موجودہ حالات میں ان اقوام کی فتح کے ساتھ بالشوزم کی فتح بھی ضروری ہے اور بالشوزم مذہب کی نیشنلسٹ سوشلزم والوں سے بھی زیادہ دشمنی ہے۔پس یقیناً ان کی فتح سے گود نیا کو نیشنلسٹ سوشلزم کے خطرہ سے نجات ہوگی مگر ایک نئی رسہ کشی مذہب اور لامذہبیت میں شروع ہو جائے گی۔غرباء کی حالت سدھارنے کیلئے مختلف مذاہب کی تدابیر میں نے اس وقت تک دنیوی تحریکات کا ذکر کیا ہے اب میں اُن تدبیروں کا ذکر کرتا ہوں جو مختلف مذاہب کے پیرو دُنیا کے ایک نئے نظام کی تکمیل کے لئے پیش کر رہے ہیں۔ان مذاہب میں سے سب سے بڑے مذہب یہ ہیں۔ہندو، مسیحی ، یہودی ، اور اسلام۔اِس وقت اگر ان تمام مذاہب کے پیروؤں کا جائزہ لیا جائے تو ہر مذہب کا پیرو یہ دعویٰ کرتا سُنائی دے گا کہ وہی مذہب سب سے اعلیٰ ہے جس کا وہ پیرو ہے اور اسی کی تعلیم دُنیا کے دُکھ اور درد کو دور کر سکتی ہے۔ہندو کہتے ہیں ہم ایک دن میں اوم کا جھنڈا ( نَعُوذُ باللهِ ) مکہ معظمہ پر گاڑیں گے ، یہودی کہتے ہیں یہودیت کی تعلیم ہی سب سے اعلیٰ ہے، عیسائی کہتے ہیں ہمارے یسوع مسیح نے جو کچھ کہا وہی قابل عمل ہے، اس کے مقابلہ میں مسلمانوں میں بھی جوش ہے اور وہ یہ دعویٰ کرتے اور بجاطور پر کرتے ہیں کہ اسلام ہی تمام دُکھوں اور دردوں کا کامیاب علاج پیش کرتا ہے۔بہر حال بڑے مذاہب یہی ہیں۔ہندو، مسیحی ، یہودی اور اسلام۔میں اس وقت نماز روزہ کی طرف نہیں جار ہا بلکہ میں یہ مضمون بیان کر رہا ہوں کہ دُنیا فاقے سے مر رہی ہے۔دُنیا نے اسکے علاج کے لئے بعض تحریکات جاری کی