انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 514

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو اپنے ملک میں لے آئیں۔تیسری تحریک بالشوزم کی تھی۔جرمن والوں نے ہوشیاری کر کے اس موقع پر روس سے سمجھوتہ کر لیا اور اُسے یہ دھوکا دیا کہ اگر برسر اقتدار طاقتوں کو زوال آیا تو بالشویک بھی اس ٹوٹ میں حصہ دار ہوں گے۔بالشویکس اِس دھوکا میں آگئے اور انہوں نے نیشنلسٹ سوشلزم والوں سے سمجھوتہ کر لیا لیکن جب فرانس کا زور ٹوٹ گیا اور ادھر مشرقی ممالک کوشکستیں ہونی شروع ہوئیں تو ہٹلر نے کچھ ضروریاتِ جنگ کی وجہ سے اور کچھ اس خیال سے کہ انگلستان پر فوری حملہ تو کیا نہیں جا سکتا اگر سپاہی بیٹھے رہے تو گھبرا جائیں گے اور کچھ اِس خیال سے کہ اب مقابلہ کرنے والا تو کوئی ہے نہیں، لگے ہاتھوں بالشوزم کا بھی خاتمہ کر دیں اُس نے روس پر حملہ کر دیا نتیجہ یہ ہوا کہ بالشوزم برسر اقتدار (اتحادی) حکومتوں سے مل گئی اور اب دو تحریکیں ایک طرف ہیں اور ایک تحریک ایک طرف۔اگر نیشنلسٹ سوشلزم والے جیتے تو جرمن، اٹلی ، ہسپانیہ اور جاپان کے غرباء کو تو ضرور فائدہ پہنچے گا مگر باقی اقوام کے غرباء کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو جائے گی۔گویا چار ملکوں سے غُربت مٹے گی اور سینکڑوں ملکوں میں پہلے سے بھی زیادہ قائم ہو جائے گی۔اور اگر دوسرا فریق جیتا تو دُنیا کا کچھ حصہ سوشلزم کے اثر کے ماتحت نسبتی سیاسی آزادی حاصل کر لے گا، کچھ حقوق ہندوستان کو بھی مل جائیں گے لیکن جہاں تک تجارتی اور اقتصادی آزادی کا سوال ہے اس کے لئے ان ممالک کو لمبی جد و جہد کرنی پڑے گی کیونکہ اس آزادی میں روک نہ صرف قدامت پسند اور لبرل جماعتیں ہوں گی بلکہ معاشرتی معیار کے گر جانے کے ڈر سے سوشلسٹ جماعتوں سے بھی دوسرے ممالک کا مقابلہ ہوتا رہے گا مگر جہاں تک نسبت کا سوال ہے ان لوگوں کے جیتنے سے دوسرے ممالک کی حالت یقیناً اس سے زیادہ اچھی ہو گی جو نیشنل سوشلسٹ کے غلبہ کی صورت میں ہوسکتی ہے۔موجودہ جنگ میں انگریزوں کی فتح سے ہندوستان کا فائدہ اس بارہ میں میری جو کچھ رائے ہے اور جسے میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر جرمنی جیتا تو ہمارے ملک کی حالت پہلے سے بہت زیادہ خراب ہو جائے گی اور اگر انگریز جیتیں تو ہمارے ملک کی حالت پہلے سے یقیناً اچھی ہو جائے گی۔عام طور پر ہمارے ملک میں خیال کیا جاتا ہے کہ جب غلام ہی بننا ہے تو خواہ ان کے غلام بنے یا اُن کے اس میں فرق ہی کیا ہے مگر یہ بات درست نہیں۔اور اس کی تائید میں ایک بہت بڑی دلیل جس کو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں یہ ہے کہ یہ ام