انوارالعلوم (جلد 16) — Page 513
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو دوسرا نقص دوم اس تحریک میں بھی روحانی سکھ یعنی مذہب کے لئے کوئی راستہ نہیں رکھا گیا بلکہ یہ بھی مذہب پر کئی قسم کی پابندیاں عائد کرتی ہے حالانکہ وہ مذہب ہی کیا ہے جس پر انسانوں کی طرف سے پابندیاں عائد کی جاسکیں۔مذہب تو خدا کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے اور وہی اس کی حدود مقرر کرتا ہے۔تیسرا نقص تیسرے اس تحریک میں انفرادیت کو اتنا اُبھارا گیا ہے کہ ملک کی اجتماعی آواز کو اس کے مقابلہ میں بالکل دبا دیا گیا ہے حالانکہ ہزاروں دفعہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی کا دماغ خواہ کتنا ہی اعلیٰ ہو جو بات اس کے دماغ میں آئے اس سے دوسروں کی رائے خواہ اُن کے دماغ اعلیٰ نہ ہوں بہتر ہو اِسی لئے ہماری شریعت نے یہ قرار دیا ہے کہ مسلمانوں کا ایک خلیفہ ہو جو اہم امور میں مسلمانوں سے مشورہ لے اور جہاں تک ہو سکے اُن کے مشورہ کو قبول کرے ہاں اگر کوئی اختلاف ایسا اہم ہوجس میں وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر میں نے اس وقت عام لوگوں کی رائے کی تقلید کی تو ملک اور قوم کو نقصان پہنچے گا تو اُس وقت وہ ان کے مشورہ کے خلاف بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔بہر حال اسلام کے طریق کے مطابق دونوں اُمور کو بیک وقت ملحوظ رکھ لیا جاتا ہے۔ایک طرف عوام کی رائے لی جاتی ہے اور دوسری طرف جو دماغ اعلیٰ ہو اُسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ موازنہ کرلے اور جو مشورہ قوم اور ملک کے لئے مُہلک ہو اُسے قبول نہ کرے باقی مشوروں کو قبول کرلے۔مگر نیشنلسٹ سوشلزم کی تحریک میں انفرادیت پر حد سے زیادہ زور دیا گیا ہے حالانکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سارا گاؤں غلطی پر ہوتا ہے اور ایک بڑھا زمیندار صحیح بات کہتا ہے اور کبھی بڑھا غلطی پر ہوتا ہے اور نوجوان صحیح بات کہہ رہے ہوتے ہیں۔بہر حال یہ سب افراط اور تفریط کی طرف نکل گئے ہیں۔موجودہ جنگ اور اس کا نتیجہ موجود و جا موجودہ جنگ اسی باہمی کشمکش کا نتیجہ ہے۔روس والے چاہتے ہیں کہ ہمارا نظریہ قائم ہو جائے اور وہ حالات جو روس میں پیدا ہیں وہی باقی تمام ممالک میں پیدا ہو جائیں اور انگلستان ، فرانس اور امریکہ والے سوشلسٹ کہتے ہیں کہ جو دولتیں ہم کھینچ چکے ہیں وہ ہمارے ہاتھ میں ہی رہیں جرمن، روم ، جاپان اور ہسپانیہ والوں کے ہاتھ میں نہ چلی جائیں۔پہلی لڑائی سوشلزم اور نیشنل سوشلزم کے درمیان ہوئی۔سوشلزم والوں نے اِس لئے جنگ کی کہ ان کے موجودہ اقتدار میں فرق نہ آئے اور نیشنل سوشلزم والوں نے اس لئے حملہ کیا کہ صاحب اقتدار لوگوں کی دولت کھینچ کر