انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 503

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ایسا مذہب ملک میں مقتدر نہیں ہونا چاہئے جو بیرونی اقتدار کے اثر کے نیچے ہو۔چنانچہ اسی بناء پر ہٹلر نے رومن کیتھولک اور یہودی مذہب کو مٹانا شروع کیا بلکہ اس ڈر سے کہ آئندہ اسرائیلی نسل کے لوگ بالشوزم کا اثر نہ پھیلائیں کیونکہ روس میں اسرائیلیوں کو اقتدار حاصل ہے اس نے عیسائی اسرائیلیوں کو بھی تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ہٹلر یہودیوں کا اسی لئے مخالف ہے کہ اس کا اصل یہ ہے کہ ایسے تمام مذاہب جن کے مرکز جرمنی سے باہر ہیں انہیں ملک میں طاقت پکڑنے نہیں دینا چاہئے یہی بنا ء اس کی رومن کیتھولک سے مخالفت کی ہے۔باقی لوگوں کا چونکہ باہر کوئی مذہبی مرکز نہیں اس لئے وہ سمجھتا ہے ان کی نگاہ جرمنی سے باہر کسی اور طرف نہیں اُٹھے گی۔گویا اُن کا جو مذہب ہوگا اس میں وہ منفرد ہوں گے خواہ اس میں کس قدر وحشیانہ احکام کیوں نہ پائے جاتے ہوں۔بیرونی اقتدار کے ماتحت مذاہب اس اثر کے ماتحت جرمنی میں ایسی مذہبی تحریکیں شروع ہوگئی ہیں جو پرانے اصنام پرستی کے کو مٹانے کی کوششوں کا نتیجہ عقائد کی طرف لوگوں کولے جاتی ہیں چنانچہ ایک تحریک جس میں جنرل لوڈن ڈروف ۵ اور اُن کی بیوی نے بہت سرگرمی دکھائی، یہ ہے کہ پُرانے زمانہ میں جرمن گنے کی پوجا کیا کرتے تھے اب پھر جرمنوں کو اسی طرف توجہ کرنی چاہئے۔یہ ہٹلر کی اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ ایسا طریق اختیار کرو کہ کوئی قوم اپنے بیرونی مذہبی اثر سے ملک میں تفرقہ پیدا نہ کر سکے اور چاہئے کہ کوئی ایسا مذ ہب ملک میں نہ ہو جس کا مرکز جرمن سے باہر ہو اسی بناء پر جرمنی نے رومن کیتھولک اور یہودی مذہب کو مٹانا شروع کیا ہے۔اٹلی والوں نے ایسا نہیں کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ روم ہی رومن کیتھولک مذہب کا مرکز تھا اور اس وجہ سے فاشسٹ پارٹی نے اس مذہب کی اتنی مخالفت نہیں کی مگر اس کے اقتدار کو کم کرنے کی ضرور کوشش کی تاکہ ملک کی مذہبی جماعت سیاسی جماعت کے کام میں رخنہ پیدا نہ کرے۔بعد میں ہٹلر کے اثر کے ماتحت اسرائیلیوں کی مخالفت بھی انہوں نے شروع کر دی کیونکہ انہیں بتایا گیا کہ ایک طرف یہ قوم بالشویک اثر کو پھیلاتی ہے اور دوسری طرف برسر اقتدار حکومتوں میں خاص نفوذ رکھنے کی وجہ سے اُن کے اثر کو مضبوط رکھتی ہے۔سپین نے بالشویک اور موجودہ برسر اقتدار اقوام کی مخالفت تو کرنی شروع کی لیکن یہودیوں کی ابھی اتنی مخالفت شروع نہیں کی جتنی جرمنی اور اٹلی میں ہوتی ہے ہے۔