انوارالعلوم (جلد 16) — Page 502
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو تھوڑی دولت کی تقسیم ملک کے افراد کو آسودہ حال نہیں بنا سکتی۔فرض کر و ۱۰۰ غرباء ہوں اور پچاس روپے ہوں تو ہر غریب کو آٹھ آٹھ آنے ملیں گے مگر آٹھ آنے سے اس کی مالی حالت سُدھر نہیں سکتی پس انہوں نے غرباء سے کہا کہ ہمارے ملک پہلے سے غریب ہیں اگر ان میں بالشویک تحریک آ بھی جائے تب بھی سارے ملک کا اقتصادی معیار اتنا بلند نہیں ہوگا جتنا کہ بغیر بالشوزم کے انگلستان، فرانس اور امریکہ میں ہے پس بالشوزم ان ممالک کے لئے زہر قاتل ثابت ہوگی ہاں اگر فیسزم اور ناٹسزم کی جارحانہ پالیسی کو تسلیم کر لیا جائے تو ایک طرف تو ان کا طاقت پکڑنے والا نظام امریکہ ، انگلستان اور فرانس کو شکست دے کر ان کی دولت کو کھینچ لائے گا اور دوسری طرف دوسرے ممالک پر قبضہ کر کے اُن کی دولت سے ان ممالک کو مالا مال کیا جا سکے گا۔نتیجہ یہ ہوگا کہ دولت کی فراوانی کے بعد نیشنل سوشلسٹ حکومت کے نظام کے ماتحت غرباء کی حالت اس سے کہیں بہتر ہوگی جتنی کہ بالشویک رواج کے ماتحت ہوسکتی ہے کیونکہ تھوڑی دولت کی تقسیم آخر ملک کے ہر فرد کو آسودہ نہیں بنا سکتی مگر زیادہ دولت کی تقسیم نیشنلسٹ انتظام کے ماتحت ملک کے تمام افراد کو زیادہ سکھیا بنادے گی۔اٹلی اور جرمنی میں ناٹسزم اور فیسزم کی قبولیت یہ سارے نظریے ایسے تھے کہ باوجود اس کے کہ اٹلی ، جرمنی اور سپین میں بالشوزم کے ایجنٹ موجود تھے ، لوگوں نے ناٹسزم اور فیسزم کی طرف توجہ کرنی شروع کر دی کیونکہ انہوں نے کہا ہمارا پیٹ فیسزم اور ناٹسزم سے زیادہ بھرتا ہے بالشوزم سے زیادہ نہیں بھرتا۔پس انہوں نے اپنے ملک کے لیڈروں کو طاقت دینے کا تہیہ کر لیا تا کہ وہ انگلستان، فرانس اور امریکہ کو شکست دے کر ان ملکوں کی دولت کو کھینچ لائیں اور جرمنی، اٹلی اور سپین میں تقسیم کر دیں۔بالشوزم کے خلاف پروپیگینڈے کا پانچواں ذریعہ یعنی یہ جو پیشل سوشلزم والے لوگ تھے انہوں نے بیرونی اقتدار کے ماتحت مذاہب کو مٹانے کی کوشش ایک اور بات بھی پھیلائی اور وہ یہ کہ جس طرح بالشویک تحریک کے ذریعہ امریکہ ، انگلستان اور فرانس والے ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں اسی طرح یہ مالدار اقوام اپنے بیرونی مذہبی اثر سے ملک میں تفرقہ پیدا کئے رکھتی ہیں اس لئے کوئی ۲۹