انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 330

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ میں دے دی اور علاؤ الدین آیا تو اُسے ایک کوڑی میں دے دی۔یہ طریقہ دُنیوی مینا بازاروں میں نظر نہیں آتا ، مگر اس مینا بازار میں ہمیں یہی حساب نظر آتا ہے۔ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے جنت چاہئے۔اُس سے پوچھا جاتا ہے تیرے پاس کتنا مال ہے؟ وہ کہتا ہے ایک کروڑ روپیہ۔اُسے کہا جاتا ہے اچھا لاؤ اپنی جان اور ایک کروڑ رو پیدا اور لے لو جنت۔پھر ایک اور شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے بھی جنت چاہئے۔اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پاس کتنا روپیہ ہے؟ وہ کہتا ہے ایک لاکھ روپیہ۔اُسے کہا جاتا ہے اچھا لا ؤ اپنی جان اور ایک لاکھ روپیہ اور لے لو جنت۔اُسی وقت ایک تیسرا شخص آ جاتا ہے اور وہ کہتا ہے میرے پاس صرف سو روپیہ ہے مگر میں بھی جنت لینا چاہتا ہوں اُسے کہا جاتا ہے اچھا تم بھی اپنی جان اور سو روپیہ لاؤ اور جنت لے لو یہ پھر ایک اور شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے پاس سو روپیہ تو کیا ایک پیسہ بھی نہیں ہے صرف مٹھی جو کے دانے ہیں مگر خواہش میری بھی یہی ہے کہ مجھے جنت ملے۔اسے کہا جاتا ہے کہ تمہارا سودا منظور لاؤ جان اور سکھی بھر دانے اور لے لو جنت۔۲۴ بلکہ اس بازار میں ہمیں ایسے ایسے بھی دکھائی دیئے کہ چشم حیرت کھلی کی کھلی رہ گئی۔ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا يَا رَسُولَ اللهِ ! مجھ سے ایسا ایسا گناہ ہو گیا ہے ، آپ نے فرمایا تو پھر اس کا کفارہ ادا کرو اور اتنے روزے رکھو۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! مجھ میں تو روزے رکھنے کی طاقت نہیں۔آپ نے فرمایا اچھا روزے رکھنے کی طاقت نہیں تو غلام آزاد کر دو۔وہ کہنے لگا يَارَسُولَ اللہ ! میں نے تو کبھی غلام دیکھے بھی نہیں اُن کو آزاد کرنے کے کیا معنی؟ آپ نے فرمایا اچھا تو اتنے غریبوں کو کھانا کھلا دو۔کہنے لگا يَا رَسُولَ اللهِ ! خود تو کبھی پیٹ بھر کر کھانا کھانا نصیب نہیں ہوا ، غریبوں کو کہاں سے کھلاؤں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ لاؤ دوٹو کرے کھجوروں کے اور وہ اُسے دیکر فرمایا کہ جاؤ اور غریبوں کو کھلا دو۔وہ کہنے لگا يَارَسُوْلَ اللهِ! کیا سارے مدینہ میں مجھ سے بھی زیادہ کوئی غریب ہے؟ آپ ہنس پڑے اور فرمایا اچھا جاؤ اور تم ہی یہ کھجور میں کھا لو ، ۲۵ میں نے کہا یہ عجیب نظارے ہیں جو اس مینا بازار میں نظر آتے ہیں کہ جنت یعنی مینا بازار کا سب سامان صرف اس طرح مل جاتا ہے کہ جو پاس ہے وہ دے دو۔جس کے پاس کروڑ روپیہ ہوتا ہے وہ کروڑ روپیہ دے کر سب چیزوں کا مالک ہو جاتا ہے اور جس کے پاس ایک پیسہ ہوتا ہے وہ ایک پیسہ دے کر سب چیزوں کا مالک ہو جاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا اسے خریدار اپنے پاس سے کچھ رقم دے کر کہتا ہے لو اس مال سے تم سودا