انوارالعلوم (جلد 16) — Page 329
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) نے تمہارے مال یعنی اموال مادی اور جانیں دونوں تم سے خرید لیں۔وہ مال ادنی تھا یا اعلیٰ ، قیمتی تھا یا حقیر ،تھوڑا تھا یا بہت ، سب ہی خرید لیا اور قیمت تمہاری نیتوں کے مطابق ڈالی اور سب کو اس مال کے بدلہ جنت قیمت میں ادا کی۔گویا سارا مینا بازار اُن کو بخش دیا اور سب مال فروشوں کو حقیر مال کے بدلہ میں مالا مال کر دیا۔اتنی بڑی قیمت ہم اس لئے ادا کرتے ہیں کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں یادشمن کو مارتے ہیں یا خود مارے جاتے ہیں۔پس چونکہ وہ ہماری راہ میں اپنی تھوڑی پونجی سے نکل نہیں برتے ، ہم بڑے مالدار ہو کر کیوں نخل سے کام لیں۔پھر ہم وعدہ وفا ہیں اور ان فروخت کنندوں سے یہ وعدہ ہمارا آج کا نہیں پرانا ہے۔یہ وعدہ ہم نے تورات میں بھی کیا تھا اور پھر انجیل میں بھی کیا تھا اور حال میں اُسی وعدے کو قرآن میں دُہرایا تھا اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ وعدہ وفا کرنے والا کون ہو سکتا ہے۔پس اے لوگو! آج جو سودا تم نے کیا ہے اس کے نتائج پر خوش ہو جاؤ اور یقیناً ایسا ہی سودا بڑی کامیابی کہلا سکتا ہے گویا خریدار ایک ہے فروخت کرنے والے بہت سے ہیں مگر وہ سب دو ہی چیزیں فروخت کرتے ہیں اور اس کے بدلہ میں اُن کو وہ سب چیزیں ملتی ہیں جو مینا بازاروں میں ہو ا کرتی تھیں اور اس طرح ایک ہی سو دے میں سب سو دے ہو جاتے ہیں۔دنیوی اور روحانی مینا بازار میں عظیم الشان فرق پھر میں نے پھر میں نے جب اس بازار کو دیکھا تو میں نے کہا ایک اور فرق بھی اِس مینا بازار اور دنیوی مینا بازاروں میں ہے اور وہ یہ کہ مینا بازاروں کی اشیاء کو خریدنے کی طاقت تو کسی انسان میں ہوتی تھی اور کسی میں نہیں ، مثلاً وہاں کہا جاتا تھا کہ یہ چیز دس ہزار روپیہ کی ہے اور خریدار کے دل میں اُس کو خریدنے کی خواہش بھی ہوتی تھی مگر وہ خرید نہیں سکتا تھا، کیونکہ اس کے پاس دس ہزار روپے نہیں ہوتے تھے۔اسی طرح کسی کو کوئی اور چیز پسند آئی اور وہ قیمت دریافت کرتا تو اُسے بتایا جاتا کہ ایک سو روپیہ ہے ، مگر وہ ایک سو روپیہ دینے کی طاقت نہیں رکھتا تھا اور اس طرح اس کو خریدنے سے محروم رہتا تھا، کیونکہ وہاں قیمتیں مقرر ہوتی تھیں اور ان میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی تھی۔یہ نہیں کہ زید آیا تو اُسے کہدیا اس کی قیمت میں ہزار روپیہ ہے اور بکر آیا تو کہہ دیا پانچ ہزار روپیہ ہے اور خالد آیا تو کہہ دیا ایک ہزار روپیہ ہے، عمر و آ گیا تو اُسے وہی چیز سو روپیہ میں دے دی، بدر دین آ گیا تو وہی چیز اُسے آٹھ آنے میں دے دی شمس الدین پہنچا تو اسے ایک پیسے