انوارالعلوم (جلد 16) — Page 271
بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ اور ڈاکٹر گوئبلز نے کہا ہے کہ جب تک تمام لوگ اپنے اخراجات میں بچت نہ کریں گے کام نہ چل سکے گا۔امریکہ میں مسٹر رینڈل ولکی نے جو انتخاب صدر کے موقع پر مسٹر روز ویلٹ کے مد مقابل تھے کہا ہے کہ ہمیں اپنے کھانے پینے اور پہنے میں پوری پوری سادگی سے کام لینا چاہئے۔انگلستان میں بھی خود بخود اپنے کھانے اور پہننے پر قیود عائد کر لی گئی ہیں پس وہی تحریک جدید جو میں نے جاری کی تھی اسے اللہ تعالیٰ نے سب ممالک کے لئے جبری قرار دیدیا ہے اور شاید ہندوستان میں بھی ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ لوگ مجبور ہو کر اسے اختیار کریں بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایسے دن آ رہے ہیں کہ روٹی روتے ہوئے گلے سے اتر سکے گی مگر احمد ی مطمئن ہوں گے کہ ہم نے اپنے خلیفہ کی بات مان لی اور اس طرح ثواب بھی حاصل کر لیا۔جو چیز دوسرے لوگوں نے مجبور ہو کر کی وہ ہمارے لئے ثواب کا موجب ہو گئی۔اللہ تعالیٰ نے یہ زندگی ہمیں خدمت خلق کے لئے دی ہے اور اگر کھانے پینے پہنے بیٹھنے اُٹھنے میں تکلیف ہو تو ایسے اثرات پیدا ہوں گے کہ یہ مقصد پورا نہ ہو سکے گا اور امیر وغریب اکٹھے نہ ہوسکیں گے۔ہمارے ملک میں امیروں اور غریبوں کے درمیان ایک دیوار حائل ہے وہ ایک دوسرے سے میل جول اور کھانے پینے سے پر ہیز کرتے ہیں۔پیروں نے بھی ان کو غلط راستہ پر لگا دیا ہے۔میں نے دیکھا ہے ابھی تک بعض لوگ مجھے ملنے آتے ہیں تو وہ پیروں کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتے ہیں ان کو ہزا ر منع کرو وہ سمجھتے ہیں کہ بطور انکسار منع کرتے ہیں ورنہ ہمیں ضرور ایسا ہی کرنا چاہئے۔اُن پیروں نے کس طرح انسانیت کو ذلیل کر دیا ہے میں تو کہتا ہوں اگر کوئی حکومت آئے تو سب سے پہلے ان کو پکڑے۔ان سب کو کنسنٹریشن (CONCENTRATION) کیمپوں میں بھیج دینا چاہئے۔احمدیت کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے قائم کیا ہے کہ انسانیت کو بلند کیا جائے لیکن ابھی تک احمدیوں میں بھی بعض ایسے لوگ ہیں جو ان باتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ہم منع کرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ انکسار کرتے ہیں حالانکہ مجھے ان باتوں سے سخت تکلیف ہوتی ہے میرے سامنے جب کوئی ہاتھ جوڑتا ہے تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے مار رہا ہے اور دراصل کسی کے ایسا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مار پڑ رہی ہے کہ احمدی جماعت ابھی تک قوم کی اصلاح میں کامیاب نہیں ہوئی۔پس امیر وغریب کا امتیاز نہایت خطرناک چیز ہے اور اسے جلد از جلد مٹانا ہمارا فرض ہے۔میرا ایک عزیز تھا میرے منہ سے ” تھا نکلا ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہے مجھے اس سے محبت نہیں عشق تھا مگر ایک دفعہ اس کے منہ سے یہ فقرہ نکلا کہ فلاں علاقہ کے احمدی بھی