انوارالعلوم (جلد 16) — Page 270
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور ہوں کہ دس بارہ ہزار ایکڑ زمین حاصل کی جاسکے اور جب تک جماعت عمدگی کے ساتھ اور پوری توجہ سے تحریک جدید کے چندوں کی ادائیگی میں کوشش نہ کرے یہ پورا نہیں ہوسکتا۔جو زمین خریدی جا چکی ہے اس میں سے بعض رقبے تو تین چار سال کے بعد ہی آزاد ہو جائیں گے۔یعنی ان کی قیمت ادا ہو جائے گی اور بعض کی اقساط اگر ہم چندہ کے ذریعہ زمین کو پہلے ہی آزاد نہ کروالیں تو چودہ پندرہ سال تک ادا ہوتی رہیں گی۔پس یہاں سے جانے کے بعد ہر جماعت کے دوست کوشش کریں کہ ہر شخص چندہ تحریک جدید میں اپنا وعدہ لکھوائے اور پھر اسے پورا بھی کرے۔تحریک ہر ایک احمدی کو کی جائے مگر جبر نہ کیا جائے جو شخص چاہے حصہ لے اور جو نہ چاہے نہ لے۔دوسری صورت یہ ہے کہ امانت فنڈ کو مضبوط کیا جائے۔اس کی طرف بہت کم توجہ امانت فنڈ کی گئی ہے۔پہلے اس میں صرف دس بارہ ہزار روپیہ سالانہ آتا تھا پچھلے سال میں نے تحریک کی تو اٹھارہ میں ہزار آیا ہے مگر یہ بھی کم ہے اگر دوست توجہ کریں تو کم سے کم لاکھ دو لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہوسکتی ہے ہر شخص کو چاہئے کہ جنگ کے خطرات کے پیش نظر یا مکان بنانے کی نیت سے یا بچوں کی تعلیم اور ان کی شادیوں وغیرہ کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور پس انداز کرتا رہے اور پھر اسے امانت فنڈ میں جمع کراتا رہے تا مصیبت یا ضرورت کے وقت کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرنا پڑے۔مجھے تو بیسیوں لوگوں نے کہا کہ آپ کی اس تحریک سے ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہے ہمارے لئے کوئی صورت مکان بنانے کی نہ تھی اور اس طرح بنا لیا تو اس طرف دوستوں کو خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔سادہ زندگی تیسری چیز سادہ زندگی ہے۔میں دیر سے اس کی طرف دوستوں کو توجہ دلا رہا ہوں اور اب تو خدا تعالیٰ دنیا کو کھینچ کر سادہ زندگی کی طرف لا رہا ہے۔اب یہ عام شکایت پیدا ہو رہی ہے کہ کپڑا نہیں ملتا ، جرا ہیں نہیں ملتیں ، بنیا نیں نہیں ملتیں اور جو چیز ملتی ہے وہ ایسی گراں ہے کہ اسے خریدنا مشکل ہے اور اگر جنگ لمبی ہوگئی تو شاید چند کروڑ پتی ہی ایسے ہوں گے جو ان چیزوں کو خرید سکیں ورنہ باقی سب کو مجبوراً اپنی زندگی میں سادگی اختیار کرنی پڑے گی۔آج ہزاروں لوگ ہیں جو مجبور ہو کر اسے اختیار کر رہے ہیں اور جن احمدیوں نے میرے کہنے پر اسے اختیار کیا وہ کتنے فائدہ میں رہے کہ اس سے انہیں ثواب بھی حاصل ہو گیا۔میری طرف سے اس تحریک کے بعد مختلف ممالک میں حکماً وہی باتیں جاری کی گئیں۔مسولینی نے حکم دیا کہ گوشت کی صرف ایک ہی پلیٹ استعمال کی جائے ، جرمنی میں بھی ایسے احکام دیئے گئے ہیں