انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 272

بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ عجیب ہیں نہ موقع دیکھتے ہیں اور نہ وقت اور ملنے آ جاتے ہیں۔پس اُس دن کے بعد سے میں اپنے اور اسکے درمیان ایک دیوار حائل پاتا ہوں۔یہ ذہنیت نہایت خطر ناک ہے اور جب تک ہم اس سانپ کا سر نہیں کچل دیتے اُس وقت تک اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کر سکتے۔جب تک یہ ذہنیت موجود رہے گی کہ تم اور ہو اور میں اور ہوں اور اگر ہم میں تو نہیں مگر ہماری اولادوں میں یہ ذہنیت موجود رہے گی تو کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی۔میں نے گل ہی سنایا تھا کہ مسلمان کی زندگی تکلفات سے پاک ہونی چاہئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ایک زمانہ میں حضرت ابو ہریرہ کو ایک جگہ کا گورنر بنا دیا گیا۔اُنہی ایام میں ایران کی فوجوں کو شکست ہوئی اور جو اموال کسری کے مسلمانوں کے ہاتھ آئے ان میں وہ رومال بھی تھا جو کسری اپنے تخت پر بیٹھنے کے وقت استعمال کیا کرتا تھا۔اموال کی جب تقسیم ہوئی تو وہ رومال حضرت ابو ہریرۃ کے حصہ میں آیا۔اب بھلا ایک سیدھے سادے مسلمان کی نگاہ میں یہ چیز کیا حقیقت رکھتی تھی اتفاقاً انہیں کھانسی ہوئی اور انہوں نے بلغم اُس رومال میں پھینک دی اور پھر کہنے لگے بی بیخ ابو ہریرہ یعنی واہ بھئی ابو ہریرہ۔لوگوں نے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سننے کے شوق میں میں ہر وقت مسجد میں بیٹھا رہتا تھا اور اس وجہ سے کئی کئی فاقے آتے تھے اور میں شدت ضعف کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتا تھا۔لوگ سمجھتے مرگی کا دورہ پڑا ہے اور چونکہ عربوں میں رواج تھا کہ جب کسی کو مرگی کا دورہ ہو تو اُسے جوتیاں مارتے تھے اسلئے میرے سر پر جوتیاں مارتے تھے۔کجا تو وہ حالت تھی اور کجا آج یہ حالت ہے کہ وہ رومال جو کسری تخت پر بیٹھنے کے وقت استعمال کرتا تھا وہ میرے قبضہ میں ہے اور میں اس میں بلغم پھینک رہا ہوں۔اس طرح گویا حضرت ابو ہریرۃ نے یہ بتایا کہ مؤمن کو چاہئے کہ ظاہری تکلفات میں مبتلا نہ ہو۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو بھی چاہئے کہ اپنی زندگی ایسی بنائیں کہ امیر وغریب کا کوئی فرق نظر نہ آئے۔میں نے ہمیشہ دیکھا ہے جب بھی میں کسی دعوت وغیرہ میں جاتا ہوں تو وہاں ایک جگہ نمایاں طور پر گاؤ تکیہ وغیرہ لگا ہوتا ہے۔میں نے ہمیشہ منع کیا ہے مگر پھر بھی دوست ان باتوں کو چھوڑتے نہیں۔وقف زندگی تبلیغ کے لئے تیاری کے ضمن میں ایک اور ضروری تحریک وقف زندگی کی ہے۔پہلے پہل جب تحریک کی گئی تو بہت سے نوجوانوں نے اپنے نام پیش کئے تھے