انوارالعلوم (جلد 16) — Page 244
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور حالت کے لحاظ سے یہ تعداد ایسی بُری نہیں۔لائل پورا ۵ دہلی لائل پور کی نسبت چار پانچ گنا بڑا ہے۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جماعت دہلی نے غفلت کی ہے۔ملتان ۴۹ شہر اور جماعت کی حالت کے لحاظ سے کام اچھا ہے، شیخو پورہ ۲۰ ، ڈیرہ غازی خان ۲۷ ، سرگودھا ۳۵، گجرات ۳۷، سیالکوٹ ۲۷ ، سیالکوٹ کی تعداد بہت ہی کم ہے وہاں کی جماعت میں قریباً چھ سو مرد چندہ دینے والے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ وہاں نہ جماعت کے اندر فروخت کی کوشش کی گئی ہے اور نہ باہر۔ہاں ایک اور آرڈر بھی سیالکوٹ کی طرف سے آیا تھا اور چونکہ وہ چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کی معرفت آیا تھا اس لئے شاید سیالکوٹ کی طرف منسوب نہیں ہو سکا۔اسے بھی اگر شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد کم نہیں رہتی۔گوجرانوالہ ۱۹ ، یہ بھی بہت کم ہے۔شہر میں وہاں اچھے تعلیم یافتہ احمدی ہیں اور ارد گرد بھی اچھے تعلیم یافتہ زمیندار ہیں ، جہلم ۸، انبالہ ۷، جالندھر ۳، جھنگ ۷، میانوالی ۴ ، فیروز پور ۲۰ ، گوڑ گانواں ۸، رہتک ،ا، حصار ۲ ، ریاست کپورتھلہ ۱، مالیر کوٹله ۲، شمله ۲ ، جے پور، جودھ پور۳، حیدر آبا دسکندر آباد ۲۴۱، مگر میرا خیال ہے یہ تعداد ۳۱۰ ہے۔معلوم نہیں دفتر نے کس طرح غلط رپورٹ کی ہے۔صوبہ سرحد ۷۶، مدراس ۲، بهار ۲۳، بمبئی ۴ ، یو۔پی ۱۱ رام پور ۴ ، سی پی ۱۴، نواں نگر ۱۰۰ لنگر والا، بذریعہ چوہدری ظفر اللہ خانصاحب ۵۹۶ ، بر ما ۲۴ ، عراق ۲ ،فلسطین ،۸، جاوا سماٹرا ، ۴ یہ کل تعداد ۲۹۰۹ ہے۔اسے دیکھ کر دوست اندازہ کر سکتے ہیں کہ جماعت نے زیادہ کوشش نہیں کی۔چاہئے تھا کہ جماعت میں ہی یہ تمام پک کر کم سے کم ۴،۳ ہزار کا مطالبہ اور ہوتا مگر ہوا یہ کہ قریباً ۲۴۰۰ جماعت میں فروخت ہوئی اور باقی پانچ سو دوسروں نے لی۔مجھے امید ہے کہ آئندہ جماعت ایسی غفلت نہ کرے گی جن جماعتوں نے اب بالکل کوشش نہیں کی وہ آئندہ کوشش کریں گی اور جنہوں نے کوشش کی ہے وہ آئندہ اور زیادہ کوشش کریں گی۔جماعت لاہور، دہلی، سیالکوٹ، پشاور ، لکھنو ، بھاگلپور، بنارس، شاہ جہان پور، علی گڑھ ، مراد آباد، سہارن پور کی جماعتوں پر بڑی ذمہ داری ہے اور اگر یہ صیح طور پر کام کریں تو اشاعت بہت ہو سکتی ہے۔جب اسے چھپوانے لگے تو بعض دوستوں نے کہا تھا کہ پانچ ہزار چھپوانی چاہئے مگر میں نے اس کی اجازت نہ دی اور کہا کہ پہلے تین ہزار چھپوائی جائے پھر دیکھا جائے گا۔اب دوسری جلد بھی تین ہزار ہی چھپوائی جائے گی۔طبع شدہ جلد ختم ہو چکی ہے بلکہ ہم نے خود باہر سے خریدی ہیں اور بعض دکاندار جن کے پاس موجود ہے وہ ۸ ۹ بلکہ دس دس روپیہ میں اسے فروخت کر رہے ہیں۔اگر دوست توجہ کرتے اور یہ جلد زیادہ چھپوائی جاسکتی تو لوگوں کی