انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 245

سکتا بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ ضرورتیں آہستہ آہستہ پوری ہوتی رہتیں اور اگر اس کی اشاعت اچھی طرح کی جاتی تو علمی طبقہ کو سلسلہ کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ ہو جاتی۔یہ تفسیر ایک بہترین تحفہ ہے جو دوست دوست کو دے سکتا ہے۔ایک بہترین تحفہ ہے جو خاوند بیوی کو اور بیوی خاوند کو دے سکتی ہے، باپ بیٹے کو دے نا ہے، بھائی بہن کو دے سکتا ہے، یہ بہترین جہیز ہے جو لڑکیوں کو دیا جا سکتا ہے۔ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اب اتنی ہے کہ قریباً دو ہزار شادیاں سال میں ہوتی ہیں۔اور ہر شادی پر لوگ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق دوسو ، چار سو ، پانسو، ہزار، دو ہزار روپیہ خرچ کرتے ہیں۔کپڑے اور زیور بناتے ہیں لیکن اگر تفسیر کو بھی شادی کے موقع پر دیا جاتا تو یہ سب سے بہتر تحفہ، بہتر جہیز اور بہتر بری ہوتی۔کپڑے پھٹ جاتے ہیں ، زیور گھس جاتے یا گم ہو جاتے ہیں مگر قرآن کریم کی تفسیر ایسا تحفہ، ایسا جہیز اور ایسی بری تھی جو ہمیشہ کام آنے والی ہے اور اس طرح قریباً تین چار ہزار جلدیں صرف اس طرح لگ سکتی تھیں مگر افسوس ہے کہ دوستوں نے اس طرف توجہ نہیں کی اور اس کی اشاعت کے لئے وہ کوشش نہیں کی جو چاہئے تھی اور مجھے امید ہے کہ آئندہ ایسی کوتا ہی نہ کی جائی گی۔-۷- انگریزی ترجمہ وتفسیر قرآن اب میں انگریزی ترجمہ و تفسیر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا و ہوں۔ترجمہ وتفسیر خدا تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو چکے ے۔ہیں اور اب ان کے چھپوانے کا سوال ہے۔ہم غور کر رہے ہیں کہ اسے ابھی چھپوا ئیں یا نہیں۔کاغذ بے حد گراں ہے بلکہ اس کا ملنا مشکل ہو رہا ہے قیمت اب قریباً چار گنا زیادہ ہوگئی ہے۔جو کاغذ پہلے پانچ روپے رم ملتا تھا وہ اب ہمیں روپیہ میں ملتا ہے۔اگر اب اسے چھاپا جائے اور اس کا حجم مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر سے دُگنا بھی ہو تو چونکہ ان کی تفسیر کی قیمت چھپیں روپے ہوا کرتی تھی۔کاغذ کی گرانی کی وجہ سے اس کی قیمت پچاس ساٹھ روپیہ سے کم نہ رکھی جا سکے گی اور یہ اتنی زیادہ قیمت ہے کہ اس پر تفسیر خریدنا بہتوں کے لئے مشکل ہوگا۔پھر اس وقت انگلستان میں چھپوانے کے لئے کسی کا وہاں جانا بھی مشکل ہے اور اگر ہندوستان میں چھپوایا جائے تو یہاں کا چھپا ہوا یورپ میں یک نہیں سکتا۔تجربہ کار لوگ صرف کتاب کی شکل دیکھ کر پہچان لیتے ہیں کہ یہ ہندوستان کی چھپی ہوئی کتاب ہے اور اسے خریدنا پسند نہیں کرتے کیونکہ ہندوستان کی چھپوائی بہت ادنی ہوتی ہے۔پس یہ کام تو مکمل ہو چکا ہے مگر اس کی طباعت کی راہ میں یہ دقتیں ہیں۔میرا ارادہ ہے کہ اس سال مجلس شوری کے موقع پر اس سوال کو پیش کیا جائے کہ آیا اسے ان حالات میں