انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 243

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور قرآن کریم پر خرچ نہیں کرنا چاہتے تو میں کہوں گا کہ ان کا ایمان ناقص ہے۔ہر احمدی باپ کا فرض تھا کہ اپنی اولاد کے لئے تفسیر کبیر خریدتا۔میں نے خود اپنی ہر لڑکی اور ہر لڑکے سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے تفسیر خریدی ہے یا نہیں اور جب تک ان سب نے نہیں خریدی مجھے اطمینان نہیں ہوا۔میں نے تو خود سب سے پہلے اسے خریدا اور حق تصنیف کے طور پر اس کا ایک بھی نسخہ لینا پسند نہیں کیا کیونکہ میں اس پر اپنا کوئی حق نہ سمجھتا تھا۔میں نے سوچا کہ مجھے علم خدا تعالیٰ نے دیا ہے وقت بھی اُسی نے دیا ہے اور اُسی کی توفیق سے میں یہ کام کرنے کے قابل ہوا پھر میرا اس پر کیا حق ہے اور میرے لئے یہی مناسب ہے کہ خود بھی اسے اسی طرح خریدوں جس طرح دوسرے لوگ خریدتے ہیں۔پس ہر ماں باپ کا فرض تھا کہ اپنی اولاد سے جو اسے پڑھنے کے قابل تھی دریافت کرتا کہ اُس نے اسے خریدا ہے یا نہیں؟ اور جس نے نہ خریدا ہوتا اس پر اظہار ناراضگی کرتا کہ تم زہر کھاتے ہو مگر اس کے تریاق سے غافل ہو۔پھر مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ بعض بڑے بڑے شہروں کی جماعتوں نے بھی اس کی طرف بہت کم توجہ کی ہے۔میں تمام جماعتوں کی خریداری کی فہرست سنا دیتا ہوں اس سے احباب اندازہ کر سکیں گے کہ کیس کیس نے اس کی اشاعت کی طرف توجہ کی ہے۔ضلع گورداسپور ۶۰۷۔اس میں سے قادیان میں ۵۷۲ اور باقی ضلع میں ۳۵ فروخت ہوئیں اور یہ کوئی خوشی کا مقام نہیں۔قادیان میں ایسے تعلیم یافتہ احمدی مردوں کی تعداد جو اسے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں قریباً ایک ہزار ہے اور تعلیم یافتہ عورت مرد ملا کر ۱۵۰۰ کے قریب ایسے لوگ ہیں جو اسے خرید سکتے تھے مگر انہوں نے خریدی نہیں۔اور یہ جو تعداد ۲ ۵۷ ہے یہ بھی ساری قادیان کے دوستوں نے نہیں خریدی بلکہ اس میں اڑھائی تین سو وہ تعداد ہے جو کمیشن ایجنٹوں نے خرید کر جلسہ سالانہ کے ایام میں فروخت کی۔اور اس حساب سے قادیان میں تین سو کے قریب ہی پکی ہے۔ضلع گورداسپور میں ۳۵ جلدیں فروخت ہوئی ہیں اور اس ضلع میں تعلیم کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بعض دوسرے ضلعوں کی نسبت سے اچھی تعداد ہے۔دہلی ۵۲ یہ بہت ہی کم ہے۔اتنے تو وہاں احمدی ہی ایسے ہوں گے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوں گے جو خرید سکتے تھے۔میرے خیال میں کم سے کم ساٹھ ستر وہاں کے احمدیوں کو لگنی چاہئیں تھیں۔اور کم سے کم اتنی ہی غیر احمدیوں میں۔پس میں جماعت دہلی کے کام کو اچھا نہیں سمجھتا۔امرتسر ۴۶ یہ جماعت عام طور پر غرباء کی جماعت ہے اور گوشہر کے لحاظ سے زیادہ چاہیے لیکن جماعت کی