انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 92

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ کہ جب موڑ پر پہنچے جہاں سے ان کی بیوی اور بچہ انہیں دیکھ نہ سکتے تھے تو اُن کے جذبات قابو سے باہر ہو گئے۔انہوں نے اپنا منہ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا اور ہاتھ اُٹھا کر یہ دُعا کی : رَبَّنَا إِنّى اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّم 2 اے میرے رب ! میں اپنی اولا دکو تیرے مقدس گھر کے قریب اس وادی میں چھوڑ کر جا رہا ہوں جس میں کوئی کھیتی نہیں جس میں کوئی چشمہ نہیں محض اس لئے کہ وہ تیری عبادت کریں۔پس تو ہی ان کی حفاظت فرما اور ان کو شرور اور مفاسد سے محفوظ رکھ۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ قلعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت سے بھی پہلے تعمیر ہو چکا تھا۔سرولیم میور کی شہادت تاریخ بھی اس کے نہایت قدیم ہونے کی شہادت دیتی ہے چنانچه سرولیم میور لائف آف محمد میں لکھتے ہیں کہ مکہ کے مذہب کے بڑے اصولوں کو ایک نہایت ہی قدیم زمانہ کی طرف منسوب کرنا پڑتا ہے گو ہیروڈوٹس ۵۶ نے نام لیکر کعبہ کا ذکر نہیں کیا مگر وہ عربوں کے بڑے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا الالات کا ذکر کرتا ہے اور یہ اس کا ثبوت ہے کہ مکہ کا یہ بڑا بت اس قدیم زمانہ میں بھی پوجا جاتا تھا۔یہ ہیروڈوٹس ایک یونانی مورخ تھا جو ۴۸۴ قبل مسیح سے ۴۲۵ قبل مسیح تک ہوا، گویا حضرت مسیح کے صلیب کے واقعہ سے مدتوں پہلے لات کی شہرت وغیرہ دُور تک پھیلی ہوئی تھی پھر لکھا ہے کہ ڈایوڈ ورس سکولس مؤرخ جو مسیحی سند سے پچاس سال پہلے گزرا ہے وہ بھی لکھتا ہے کہ عرب کا وہ حصہ جو بحیرہ احمر کے کنارے پر ہے اس میں ایک معبد ہے جس کی عرب بڑی عزت کرتے ہیں ۵۸ پھر لکھتا ہے قدیم تاریخوں سے پتہ نہیں چلتا کہ یہ بنا کب ہے یعنی ایسے قدیم زمانہ کا ہے کہ اس کے وجود کا تو ذکر آتا ہے مگر اس کی بنا ء کا پتہ نہیں چلتا۔پھر لکھتا ہے کہ بعض تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ عمالقہ نے اسے دوبارہ بنایا تھا اور کچھ عرصہ تک ان کے پاس رہا اور تورات سے پتہ چلتا ہے کہ عمالقہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تباہ ہوئے گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے بھی پہلے عمالقہ اس پر قابض رہ ا چکے ہیں اور وہ اس کے بانی نہ تھے یہ گھر ان سے بھی پہلے کا ہے انہوں نے اس کے تقدس پر ایمان لاتے ہوئے اسے دوبارہ تعمیر کیا تھا خروج باب ۱۲ آیت ۸، ۱۹ اور گنتی باب ۲۴ آیت ۲۰ سے پتہ چلتا ہے کہ عمالقہ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تباہ کیا تھا۔پس ان سب باتوں سے پتہ لگتا ہے کہ کعبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کا ہے کیونکہ عمالقہ نے اس کو دوبارہ تعمیر کیا تھا