انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 93

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ اور حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام میں اڑھائی سو سال سے چار سو سال کا فاصلہ ہے۔اگر عمالقہ کی سو ڈیڑھ سو سال کی حکومت بھی فرض کر لی جائے تو بھی اُن کا اسے دوبارہ تعمیر کرنا کئی سو سال پہلے کے عرصہ پر دلالت کرتا ہے اور اس وقت بھی اس کی تعمیر ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کی مرمت ثابت ہوتی ہے۔اب میں نے سوچا کہ اس قدر قدیم قلعہ جس کی سارا ملک عرب عزت کرتا تھا اگر اس طرح تمام معلومہ اصول کے خلاف تیار ہو ا تھا تو اسے یقینا تباہ ہو جانا چاہئے تھا اور اگر وہ تباہ نہیں ہوا تو پھر یقیناً وہ ایسی عجیب قسم کا قلعہ ہے کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی کہ بغیر ظاہری سامانوں کے وہ قائم ہے اور اپنا کام کر رہا ہے۔قدیم اقوام کے متواتر حملوں میں اس روحانی قلعہ کی سلامتی جب میں نے غور کیا کہ کیا ان علاقوں کی طرف جہاں یہ قلعہ تھا قدیم زبردست اقوام نے حملے کئے تھے؟ اور میں نے دیکھا کہ سب سے پہلے نینوا والوں نے ایشیائے کو چک سے نکل کر ادھر حملہ کیا اور شام اور فلسطین کو پامال کرتے ہوئے مصر کی طرف نکل گئے۔وہ نینوا سے چلتے ہیں اور جنوب مغرب کی طرف آتے ہیں مگر جس وقت اس قلعہ کی سرحد پر پہنچتے ہیں تو آگے بڑھنے کی جرات نہیں کرتے اُس وقت میں نے سمجھا کہ اس قلعہ کے لئے ضرور کوئی ایسے مخفی سامان حفاظت تھے کہ جن کی وجہ سے وہ ادھر رُخ نہ کر سکے اور وہ مرعوب ہو گئے۔بابلیوں کی چڑھائی تب میں نے سوچا کہ کیا اس کے بعد بھی کوئی دشمن اٹھا ہے یا نہیں؟ اور میں نے دیکھا کہ ان کے بعد بابلیوں نے انہی علاقوں پر چڑھائی کی۔وہ عراق کی طرف سے بڑھے اور انہوں نے شام فتح کیا ، مصر فتح کیا ، مگر وہ بھی اسی راہ پر نکل گئے اور اس قلعہ کی طرف انہوں نے رُخ نہ کیا۔کیا نیوں کی فتوحات پھر میں نے دیکھا کہ کیا نیوں نے ایران سے نکل کر عراق فتح کیا ، ایشیائے کو چک فتح کیا ، شام فتح کیا، فلسطین، مصر، یونان، رومانیہ اور اوکرین کو مغرب کی طرف فتح کیا اور بلخ، بخارا ، سمرقند ، افغانستان، بلوچستان اور پنجاب کو مشرق میں فتح کیا، لیکن اس قلعہ کو درمیان سے وہ بھی چھوڑ گئے۔سکندر رومی کی یلغار پھر میں نے سکندر رومی کو بڑھتے ہوئے دیکھا وہ بجلی کی طرح گوندا اور یورپ سے نکل کر ایشیائے کو چک وغیرہ کے علاقوں کو فتح کرتے