انوارالعلوم (جلد 15) — Page 598
انوار العلوم جلد ۱۵ امته الودود میری بچی سمجھنے لگ گیا تھا اور خیال کرتا تھا کہ امتہ الحی کی نسل کو اب اللہ تعالیٰ چاہے تو امتہ الودود چلائے گی اس لئے جہاں اس بچی کے ماں باپ اپنے دل کو یہ کہہ کر صبر دلاتے ہوں گے کہ ایک دن تو اس لڑکی نے ہمارے گھر سے جانا ہی تھا وہاں میرے دل کی تکلیف اور ہی رنگ رکھتی ہے۔بہوئیں اگر نیک ہوں بیٹیوں سے کم پیاری نہیں ہوتیں اور اگر وہ اپنی ہی عزیز ہوں اور طبیعت کی نیک تو چونکہ انسان کو بڑھاپے میں لڑکیوں سے زیادہ بہوؤں سے واسطہ پڑتا ہے اور وہی اس کی راحت کا موجب ہوتی ہیں ان کا وجود اور بھی زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔میں کئی دفعہ سوچا کرتا ہوں کہ انسان جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کی لڑکیاں دوسروں کے لڑکوں کے گھروں میں چلی جاتی ہیں اور اس کے لڑکے دوسروں کی لڑکیوں کو لے کر الگ ہو جاتے ہیں اور وہ اُس وقت جب کہ وہ سب سے زیادہ خدمت اور دلجمعی کا محتاج ہوتا ہے اکیلا رہ جاتا ہے۔پھر جب کہ لڑکے اپنی شادیوں میں آزاد ہیں ضروری نہیں کہ ان کی بیویاں اُن کے ماں باپ کے لئے راحت کا موجب ہوں۔خلیل چونکہ بے ماں کا بچہ ہے میری خواہش تھی کہ اس کے لئے میں ایسی بیوی تلاش کروں جسے بالکل الگ رہنے کی خواہش نہ ہوا اور ہو بھی میری عزیز تا کہ اس کی خوشی کا خیال رکھنے پر میں اور دوسرے اہلِ خانہ دونوں طرح مجبور ہوں اس کے بہو ہونے کے لحاظ سے بھی اور اس کے رشتہ دار ہونے کے لحاظ سے بھی۔یہ بات تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ مرحومہ کا رشتہ ہوتا یا نہ ہوتا یا اس کا عمل کیسا ہوتا لیکن میں نے اس کی طبیعت کا مطالعہ کر کے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اگر وہ ہمارے گھر میں آئی تو اپنی طبیعت کے لحاظ سے ایسے امور میں وہی راہ اختیار کرے گی جو میری خوشی کا موجب ہو۔تعجب ہے اس بچی کو ہمارے گھر کی سب لڑکیاں متکبر کہا کرتی تھیں تکبر نہیں حیاء و انکسار اور غالباً اسی اثر کے ماتحت اس کا رشتہ میرے بڑے لڑکوں میں سے کسی سے نہ ہو سکا مگر جب میں نے اس کے اخلاق کا گہرا مطالعہ کیا تو میں نے دیکھا کہ اس کا تکبر اس کی حیا تھی ، ورنہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اس کی طبیعت کا انکسار ہمارے خاندان کی اکثر لڑکیوں سے بڑھا ہوا تھا اور میں نے اس کا دل کینہ اور بغض سے بالکل صاف پایا۔لڑکیوں میں آپس میں رقابت ہوتی ہے میری بچیوں میں بھی ہے لیکن اس کا میں نے جہاں تک مطالعہ کیا اس میں رقابت نام کو نہ تھی اور اسے سب ہی بہنوں سے محبت تھی۔اس بارہ میں مجھے اس کا ایک خاص تجربہ ہوا۔اسے اپنی ایک بہن سے تکلیف پہنچی تھی۔میں