انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 599

انوار العلوم جلد ۱۵ امته الود و د میری بچی نے ایک دفعہ اس امر کا ذکر اس سے کیا۔مجھے معلوم ہوا کہ اُسے پہلے سے اس واقعہ کا علم تھا مگر میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ اس کے دل میں اس بہن کی نسبت کوئی کدورت نہ تھی۔خدا تعالیٰ اس کی رُوح پر رحم کرے۔پیدائشی صحت کی کمزوری امتہ الودود کی پیدائش انفوئنزا کے دنوں میں ہوئی۔ہمارے خاندان کی تین لڑکیاں انفلوئنزا کی یادگار ہیں امتہ الود ودمرحومہ، مریم صدیقہ بیگم اور امتہ الرشید میری لڑکی۔تینوں ہی کی پیدائش کچھ کچھ دن وقت سے پہلے ہوئی۔امۃ الود و دمرحومہ کی بہت پہلے اس نے صرف آٹھ ماہ اپنی والدہ کے پیٹ میں گزارے۔کچھ اس وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ بوجہ انفلوئنزا کی وباء کے دیر تک گھر کے لوگ بیمار رہے اس کی صحت بہت خراب رہا کرتی تھی اور کئی سال کی عمر تک تشنج کے دورے ہوتے رہتے تھے۔ذراسی بات پر رونے لگتی اور رورو کر دورہ ہو جاتا اور اکثر دفعہ موت کے قریب پہنچ جاتی۔ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب مرحوم گوڑ گانوی معالج ہوا کرتے تھے۔وہ اس کے اس طرح موت کے قریب پہنچ کر اچھا وو ہو جانے کی وجہ سے اسے ” مر مرجیونی“ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔میں نے اس کا نام امتہ الودود رکھا تھا اس کی امتہ الودود نام کس طرح قرار پایا اماں کو کوئی اور چھوٹا سا نام پسند تھا۔انہی دنوں کا لطیفہ ہے کہ وہ اسے اپنے پسندیدہ نام سے بلایا کرتی تھیں کہ اسے دورہ ہوا اور موت کے قریب پہنچ گئی۔اس پر انہوں نے کہا چلو امتہ الودود ہی نام سہی یہ کسی طرح بچ جائے۔وہ اچھی ہو گئی تو کچھ دنوں کے بعد انہیں اپنی بات بھول گئی اور پھر انہوں نے وہی اپنے والا نام پکارنا شروع کیا۔پھر اتفاق سے دورہ ہوا اور پھر امتہ الودود ہی نام قرار پایا۔مجھے بعضوں نے کہا کہ جب ماں کی خواہش ہے تو تم نام بدل ڈالو۔میں نے کہا میں نام تو بدل دیتا مگر بچی کے نام میں اللہ کا نام آتا ہے میں یہ نام نہیں بدل سکتا۔آخر کئی دفعہ اسی طرح ہوا اور امتہ الودود نام کی فتح ہوئی اور بچی کے دورے بھی جاتے رہے۔رے اپنے گھر کا بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے۔میرے ہاں ایک لڑکی ہوئی اور میں نے اس کا نام امتہ العزیز رکھا وہ بیمار ہوئی اور مرگئی ، پھر ایک اور لڑکی ہوئی اور میں نے اس کا نام امتہ العزیز رکھا۔میری بیوی نے کہا کہ پہلی کا نام امتہ العزیز تھا اس کا کچھ اور رکھو۔میں نے کہا نہیں میں یہی نام رکھوں گا تا کہ عورتوں میں یہ وسوسہ پیدا نہ ہو کہ اس لئے اب یہ نام نہیں رکھا کہ