انوارالعلوم (جلد 15) — Page 597
انوار العلوم جلد ۱۵ امته الودود میری بچی دواؤں کا بکس بھی ساتھ لے لیا۔بیماری کی کیفیت لیکن جب وہاں پہنچے تو کمرے میں متہ الود و لیٹی ہوئی تھی اور لمبے سانس جن میں بلغم کی خرخراہٹ شامل تھی لے رہی تھی۔وہ بالکل بے ہوش تھی اور آج اس کے چھا ابا کی آمد اس کے لئے بالکل کوئی معنی نہ رکھتی تھی۔باہر ڈاکٹر تھے میں نے ان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ درد کی رپورٹ غلط تھی۔اس کے دماغ کی رگ سوتے سوتے پھٹ گئی ہے اور طبی معلومات کی رُو سے اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔جب حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ رات کو بارہ بجے کے قریب لیٹیں اور تھوڑی دیر بعد کراہنے کی آواز آئی اس کے ابا میاں شریف احمد صاحب نے اس کی آواز سنی اور اس کے پاس آئے اور دیکھا کہ بے ہوش ہے اور تشنج کے دورے پڑرہے ہیں۔وہ اس کی چار پائی برآمدے میں لائے اس وقت اس نے کئے کی اور قے کے بعد اس قد ر لفظ کہے کہ میرا سر پھٹا جاتا ہے، سر پکڑوا اور خود ہاتھ اٹھا کر سر پکڑ لیا۔بس یہی اس کی ہوش تھی اور یہی اس کے آخری الفاظ۔فوراً ڈاکٹروں کو بلوایا گیا اور انہوں نے جو کچھ وہ کر سکتے تھے کیا۔مگر ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے شروع سے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ موت کا وقت ہے اس بیماری کا کوئی علاج نہیں میرے سامنے لمبر پنچر کیا گیا تا کہ تشخیص مکمل ہو جائے۔چنانچہ لمبر پنچر سے بجائے پانی کے خون نکلا جس سے یہ امر یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ سر کی رگ پھٹ کر دماغ کو خون نے ڈھانک لیا ہے۔چند منٹ کے بعد سانس رکنے لگا اور میرے آنے کے نصف گھنٹہ بعد یہ بچی ہم سے وفات ہمیشہ کیلئے جدا ہوگئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اليورْجِعُونَ ہے میرا رشتہ کی تحریک کا خط لکھا ہوا میرے سرہانے پڑا رہا اور امتہ الود و داپنے رب کی طرف سدھار گئی۔ثُمَّ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اليوجِعُوْنَ - ایسی لائق اور نیک اور شریف بچی کی جُدائی کا صدمہ اس کے ماں باپ کو تو دہرا صدمہ ہونا لازمی ہے جس حد تک شریعت اجازت دیتی ہے اور جس حد تک انسانی فطرت کی بناوٹ غم کو لے جانے میں مدد دیتی ہے اس حد تک انہیں صدمہ ہوا ہی ہوگا لیکن گومیں نے شادی کی درخواست دی نہ تھی اور نہ معلوم بچی کے ماں باپ ماننے یا نہ مانتے جن سے میں نے مشورہ لیا ان کا خیال تھا کہ نوے فیصدی انکار ہی سمجھنا چاہئے مگر انسان کی خواہش اسے ناممکنات بھی ممکنات کی شکل میں دکھاتی ہے۔میں تو اپنے ارادہ کے ساتھ ہی مرحومہ کو اپنی بہو